سرگودھا (بیوروچیف) ڈپٹی کمشنر حسین احمد رضا چوہدری نے واسا افسران کو اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ڈی او سے لے کر منیجنگ ڈائریکٹر تک تمام افسران فیلڈ میں نکلیں، شہریوں کے مسائل ان کی دہلیز پر جا کر حل کریں، یونین کونسل اور محلے کی سطح پر کھلی کچہریوں کا انعقاد یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر سب ڈویژن میں متعلقہ ایکسین اپنی کارکردگی کا براہ راست ذمہ دار ہوگا۔اس امر کا اظہار انہوں نے واسا کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر واسا محمد ابوبکر عمران اور ادارے کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ واسا اپنی ریونیو وصولیوں میں اضافہ کرے، تمام اثاثہ جات کی جیو ٹیگنگ مکمل کرے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت بوٹیلنگ پلانٹ سمیت دیگر منصوبوں کی تجاویز تیار کرے۔ انہوں نے سیوریج اور ویسٹ واٹر کے مؤثر استعمال کے لیے قابل عمل منصوبہ بندی بھی طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر برانچ کے لیے واضح کی پرفارمنس انڈیکیٹرز (کے پی آئیز) مقرر کیے جائیں اور افسران کی سالانہ خفیہ رپورٹس ( اے سی آرز) کو ان کی کارکردگی سے مشروط کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے واسا سے بزنس پلان بھی طلب کرتے ہوئے ادارے کی مالی خود کفالت کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ایم ڈی واسا نے بتایا کہ واسا کے قیام کے وقت ادارے کے پاس 32 ہزار کنکشن موجود تھے جن میں تقریباً 10 ہزار واٹر سپلائی کنکشن شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جاری سروے کے دوران اب تک تقریباً 50 ہزار گھروں کا ریکارڈ مرتب کیا جا چکا ہے اور تمام ڈیٹا کو جیو ٹیگ کیا جا رہا ہے۔ سروے کی تکمیل کے بعد جامعہ سرگودھا کے شعبہ شماریات کے ذریعے اس کی تصدیق کرائی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ غیر قانونی کنکشنز کو قانونی بنانے اور واٹر سپلائی و سیوریج بلوں کی وصولی کے لیے خصوصی مہم جاری ہے۔ بلوں کی پرنٹنگ کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے جبکہ 10 جولائی تک وصولیوں کے اہداف حاصل کرنے کے لیے متعلقہ عملے کو ٹارگٹس دے دیے گئے ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اب شہری اپنے بل صرف ایزی پیسہ یا جاز کیش ہی نہیں بلکہ تمام بینکوں کے ذریعے بھی جمع کرا سکیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے واسا کے 1334 شکایات سیل کو مزید فعال بنانے اور موصول ہونے والی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔




