زندگی میں کچھ رشتے خون کے نہیں ہوتے، مگر ان کی محبت، خلوص اور قربت خون کے رشتوں سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے۔ ایسے ہی ایک انمول رشتے کا نام حافظ فاروق اعظم تھا، جنہیں میں محبت سے فاروقی کہہ کر پکارتا تھا۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، مگر ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ہماری دوستی کا سفر تقریبا پینتیس برس پر محیط تھا۔1987مدرسہ اشاعت العلوم میں درس نظامی کی تعلیم بھی اکھٹے حاصل کی۔ وقت گزرتا گیا، زندگی کی راہیں بدلتی گئیں، مگر ہماری دوستی کبھی کمزور نہ ہوئی۔ ہر خوشی، ہر غم، ہر مشکل اور ہر آسانی میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے۔گزشتہ رات اچانک انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اہلِ خانہ انہیں ہسپتال لے جا رہے تھے کہ راستے ہی میں وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ یہ خبر میرے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ آج تین دن گزر چکے ہیں مگر دل اب بھی غم سے بوجھل ہے۔انہیں مرحوم لکھتے کلیجہ منہ کو آتا ہے ہر لمحہ ان کی یاد ستاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کا ایک خوبصورت باب اچانک بند ہو گیا ہو۔ہماری زندگی کی رونقیں اور خوشیاں ختم ہو گئی حافظ فاروق اعظم ایوب ریسرچ میں بطور کلرک خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ روزانہ اپنے گائوں باندیاں والا سے جھنگ روڈ پر واقع دفتر تک طویل سفر کرتے تھے۔ محدود آمدنی کے باوجود انہوں نے ہمیشہ عزت،قناعت اور خودداری کی زندگی گزاری ۔ وہ نہایت ملنسار، مہمان نواز، بااخلاق اور سچے انسان تھے۔ ہر ہفتے دو، تین یا چار مرتبہ مجھ سے ضرور ملنے آتے، گھنٹوں بیٹھتے، دل کی باتیں کرتے اور زندگی کے مسائل و خوشیوں کو ایک دوسرے سے بانٹتے وہ سیر و سیاحت کے شوقین تھے ہم اکثر سفر پر نکل جایا کرتے تھے اور خوب گپ شپ بھی لگاتے اور دل کی باتیں شیئر کر کے خوشی محسوس کرتے تھے ان کی زندگی میں سادگی تھی مگر دل بہت بڑا تھا۔ وہ ہر ایک کا
احترام کر تے ،دوستوں کا خیا ل رکھتے اور نماز و عباد ت کے پا بند تھے۔ انکے انتقال کے بعد معلو م ہوا کہ حقیقی انسا ن وہی ہو تا ہے جسکی جدا ئی پر ہر آنکھ اشکبار ہو جائے۔انہوں نے اپنی اہلیہ اور ایک پانچ سالہ بیٹی کو سوگوار چھوڑا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اہلِ خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ میرے ساتھ میرے بھائی حافظ واجد علی بھی موجود تھے، جن کا بھی حافظ فاروق اعظم سے گہرا اور قلبی تعلق تھا۔ ایک بہت بڑا مجمع اپنے پیارے ساتھی کو الوداع کہنے آیا ہوا تھا۔ جنازے سے قبل قاری شاہد نے ان کی نیکی، تقویٰ، نماز کی پابندی، حسنِ اخلاق اور دوستوں سے محبت کا تذکرہ کیا۔ ان کی گفتگو سن کر ہر آنکھ اشکبار تھی۔آج جب اپنے قریبی دوست، عزیز اور ہم سفر ایک ایک کرکے دنیا سے رخصت ہوتے دکھائی دیتے ہیں تو انسان کو اپنی زندگی کی حقیقت بھی شدت سے محسوس ہونے لگتی ہے۔ دل بے اختیار یہی سوچتا ہے کہ ہماری باری بھی کسی وقت آ سکتی ہے۔ یہی دنیا کی حقیقت ہے، یہاں ہمیشہ کسی نے نہیں رہنا۔حافظ فاروق اعظم! آپ ہمیں سوگوار چھوڑ گئے ہیں، مگر آپ کی محبت، خلوص، مسکراہٹ اور بے لوث دوستی ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام لغزشوں کو معاف فرمائے، آپ کی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور قیامت کے دن ہمیں بھی اپنے نیک بندوں کے ساتھ اٹھائے۔




