صفدرآباد(نامہ نگار)غیر قانونی پٹرول ایجنسیز کے کاروبار نے شہر بھر میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑھ لیئے،بازاروں میں کھلے عام دکانوں پر پٹرول کی فروخت جاری ہے ،لوگ دکان کے سامنے اپنی موٹر سائیکل ،کاروں اور دیگر وہیکلز میں پٹرول ڈلوا رہے ہیں ،کوئی پوچھ گچھ کرنے والا نہیں ۔کئی بار ان ایجنسیز کو سیل کیا گیا یا دکان بند کی گئی مگر چند لمحوں کے بعد پھر دکانیںکھل گئیں اور پٹرول کی فروخت شروع ہو گئی ۔آتش زدگی کے واقعات بھی منظر عام پر آئے لیکن ہنوز یہ سلسلہ بڑے دھڑلے سے جاری و ساری ہے۔،لگتا ہے کہ یہ ملک کسی قانون کے تحت نہیں بلکہ غیر قانونی ملی بھگت سے چل رہا ہے۔بازاروں میں غیر قانونی پٹرول بیچنے والوں کے پاس کیا اتھارٹی ہے کہ وہ یہ کام کریں اور جن کے پاس یہ اتھارٹی ہے کہ وہ انہیں روکیں ان کی اتھارٹی کہاں گئی ؟حکومت نے اگر انہیںکوئی اختیار دیا ہے تودکان دار بے شک سر عام پٹرول بیچیں لیکن اگر ان کے پاس کوئی اجازت نامہ ہی نہںتوپھر یہ دھکے شاہی ہے،ان کو دیکھ کر کوئی اور شہری کوئی نیا کام شروع کر لے گا اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا ۔حکومتیں آتی جاتی رہیں گی اور لوگ من مرضی کرتے رہیں گے۔




