معاشی استحکام کیلئے قابل تحسین حکومتی اقدامات (اداریہ)

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، حکومی معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے، نجکاری کے لیے مزید 28 ریاستی ادارے مختص کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت متحرک ہے، عوام کو ریلیف دینے کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی۔ حکومت نے نئے بجٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور معیشت کو دستاویزی بنانے کیلئے متعدد اہم اقدامات کئے’ گزشتہ مالی سال کا اختتام مضبوط معاشی استحکام کے ساتھ ہوا، بڑی صنعت کی نمو کے سبب جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ مالی سال 26 مستحکم رہا۔ مالی سال26 کی ترسیلات زر 41 سے 42 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے، ویلیوایڈڈ ایکسپورٹس کا بھی معاشی استحکام میں اہم کردار رہا ہے۔ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر مالی سال26 میں 18.4 ارب ڈالر ہو گئے۔ یوروبانڈز سمیت عالمی کیپٹل’ مارکیٹس تک پاکستان کی رسائی ہوئی۔ پانڈا بانڈ جیسی دوسری بڑی مارکیٹ کو کھنگالنے میں تاخیر ہوئی۔ گزشتہ مالی سال پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 11 آئی پی او ہوئے۔ 2025ء کے سیلابوں میں 2022ء کی طرح بین الاقوامی مدد طلب نہیں کی گئی۔ 2025ء کے سیلابوں میں اپنے ذرائع سے سیلاب کی تباہ کاریوں پر قابو پایا گیا۔ وفاقی بجٹ میں 50کروڑ سے کم مالیت کے کاروباروں پر سپرٹیکس کا خاتمہ کر دیا ہے۔ سپرٹیکس کا خاتمہ چھوٹے کاروباروں کے فروغ کیلئے ناگزیر تھا، کنسٹرکشن سیکٹر کو بجٹ میں ریلیف بھی دیا گیا۔ زرعی مشینری پر تمام ڈیوٹیز کو صفر کر دیا گیا ہے۔ ٹیکس نیٹ کی وسعت کے تناظر میں ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس نظام کو سہل بنا کر آسانیاں لائی جائیں۔ وزارت بحری امور کو دیکھنا ہو گا کہ ٹرانس شپمنٹ کو کیسے وسعت دینی ہے۔ گزشتہ 3ماہ سے روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کے ماہوار انفلوز 18کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 30کروڑ ڈالر ہو چکے ہیں۔ حکومت کے قرضوں کو کم ہونا چاہیے، کوشش کی جائے کہ مالیاتی نظم وضبط کو فروغ مل سکے۔ نان بینکنگ مالیاتی اداروں کو بھی آگے قدم بڑھانا ہو گا۔ مصنوعی ذہانت’ بلاک چین اور ورچوئل اثاثوں کیلئے دسمبر 2025ء میں ایکس چینج کمپنیوں کو این او سی جاری ہونا بھی خوش آئند ہے، سائبر سکیورٹی کے حوالے سے اقدامات کرنا بھی ضروری ہے۔ گزشتہ ایک سال میں کمرشل بینکوں نے متعدد سنگ میل عبور کیے ہیں۔ 1953ء سے قائم شدہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے دسمبر 2025ء میں بیلٹ باکس کے ذریعے ایگزیکٹو کمیٹی کے انتخابات کروائے ہیں۔ ایگزیکٹو کمیٹی میں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے 2خواتین کو بھی شامل کیا ہے۔ بینکنگ سیکٹر ایس ایم ایز’ زراعت اور ماحولیات کو بھی شامل کیا ہے۔ بینکنگ سیکٹر ایس ایم ایز’ زراعت اور ماحولیات پر متحرک انداز میں کام کر رہا ہے پاکستان کی بینکنگ انڈسٹری سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتی ہے جو سالانہ 1ہزار ارب روپے سے زائد ہے، گزشتہ ایک سال میں زرعی شعبے کے لیے قرضوں میں 39 فیصد کا اضافہ ہوا۔ ہائوسنگ کے قرضوں میں 90 فیصد نمو رہی۔ ایک سال میں ایس ایم ایز کو جاری قرضوں کی مالیت 80 فیصد بڑھی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ کا یہ کہنا بھی خوش آئند ہے کہ ہم اسٹیٹ بینک کی معاونت سے بینکنگ سیکٹر کی افرادی قوت کی تربیت کرنے جا رہے ہیں۔ گزشتہ سال بینکوں نے بجلی کے گردشی قرضوں کو ختم کرنے کے لیے 2400 ارب روپے کے قرضے جاری کئے، پی آئی اے کی نجکاری کیلئے بینکوں نے نجی شعبے کو 300 ارب کے قرض کا اجراء کیا۔ اس طرح کے اقدامات جاری رہنے چاہیے کہ معیشت آگے بڑھتے رہے اور ترقی وخوشحالی کی منزل کو جلد حاصل کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں