پنگریو(نامہ نگار) بلاول بھٹو کی مداخلت رنگ لے آئی، تھرپارکر میں پیپلز پارٹی کے دو اہم رہنمائوں کے اختلافات ختم ہوگئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی مداخلت کے بعد تھرپارکر سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے دو اہم رہنماں اور اراکین سندھ اسمبلی ارباب لطف اللہ اور سریندر ولاسائی کے درمیان طویل عرصے سے جاری اختلافات خوش اسلوبی سے ختم کر دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق مختلف سیاسی اور تنظیمی معاملات پر دونوں رہنماں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کی بازگشت سوشل میڈیا کے علاوہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک پہنچ گئی تھی، جس پر بلاول بھٹو زرداری نے نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلی سطحی مفاہمتی کمیٹی تشکیل دی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کمیٹی نے متعدد اجلاسوں اور مشاورتی عمل کے بعد فریقین کے تحفظات دور کرتے ہوئے باہمی اختلافات ختم کرا دیے۔ کمیٹی کی سربراہی اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے کی، جبکہ ارکان میں جمیل سومرو، سعید غنی، مکیش کمار چاولہ اور سہیل انور سیال شامل تھے۔ سریندر ولاسائی نے مفاہمتی عمل کی کامیابی پر جاری بیان میں کہا کہ وہ کمیٹی کے سربراہ اور تمام ارکان کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے ان اور ارباب لطف اللہ کے درمیان موجود تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے کرائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے نہ صرف موجودہ اختلافات ختم کرائے بلکہ مستقبل میں بھی کسی بھی باہمی مسئلے کو پاکستان پیپلز پارٹی کے نظریے، منشور اور تنظیمی نظم و ضبط کے مطابق حل کرنے کے لیے ایک مثر طریقہ کار بھی وضع کر دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ کمیٹی براہ راست پارٹی قیادت کی ہدایت پر تشکیل دی گئی تھی تاکہ تھرپارکر میں پارٹی اتحاد کو مضبوط بنایا جا سکے، اندرونی اختلافات کا مستقل حل نکالا جائے اور آئندہ ایسے معاملات کو تنظیمی فورم پر ہی نمٹایا جائے۔ سیاسی حلقوں نے اس پیش رفت کو پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے اہم تنظیمی کامیابی قرار دیا ہے۔




