فیصل آباد( سٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کے راہنمائوںپروفیسرمحبوب الزماںبٹ، میاں طاہرایوب ،انوارالحق ایڈووکیٹ نے یونیورسٹیو ں میں فیسوں میں ہونے والے غیر معمولی اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سرکاری یونیورسٹیوں میں تعلیم کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ایک طرف مہنگائی نے عام آدمی کا جینا مشکل بنا رکھا ہے دوسری طرف بجلی، گیس، پٹرول، راشن اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ایسے حالات میں والدین اپنے بچوں کی بھاری یونیورسٹی فیسیں کہاں سے ادا کریں۔ حکومت فیسیں مہنگی کرکے غریب عوام کے بچوں پر یونیورسٹیوں کے دروازے بند کر رہی ہے۔تعلیم کے لیے بجٹ اور وسائل فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ فیسوں میں اضافے کی مکمل وجوہات، اخراجات اور طلبہ پر پڑنیوالے مالی بوجھ کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ انہو ںنے کہاکہ یونیورسٹی کوئی عام تجارتی تعلیمی ادارہ نہیں۔ بلکہ پاکستان کے مستقبل سے وابستہ قومی اہمیت کا تعلیمی مرکز ہے ۔ یہاں غریب کسانوں، مزدوروں، ملازمین اور متوسط طبقے کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اگر یہی بچے فیسوں کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم ہوگئے تو اس کے اثرات صرف ان خاندانوں تک محدود نہیں رہیں گے۔




