سالانہ43ارب کے غیر قانونی سگریٹ فروخت ہونے لگے

کراچی ( بیو رو چیف )پاکستان میں 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں، جن میں سے 1 کروڑ 70 لاکھ باقاعدہ سگریٹ نوش ہیں۔ پاکستان میں سگریٹ نوشی/تمباکو نوشی سے ہر سال 1 لاکھ 64 ہزار اموات ہوتی ہیں اور نو عمر بچوں میں اس کا رجحان بڑھ رہا ہے۔حکومت کو تمباکو صنعت سے تقریبا 265 ارب روپے ٹیکس حاصل ہوتا ہے، تاہم اس کے مقابلے میں مجموعی معاشی نقصان 1800 ارب روپے تک پہنچ رہا ہے۔سائنسی شواہد سے تصدیق ہوتی ہے کہ مارکیٹ میں موجود تمباکو اور نکوٹین کی تمام قانونی و غیر قانونی مصنوعات انسانی صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہیں جن میں ای سگریٹ اور نکوٹین کے پاچ بھی شامل ہیں۔تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے مگر اس کے استعمال، اس سے متعلقہ بیماریوں اور طبی نظام پر دبا اضافہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں 2022-23 کے دوران سگریٹ پر اچانک بھاری ٹیکس عائد کرنے کا رجحان شروع ہوا۔مگر سگریٹوں پر بھاری ٹیکس لگانے کے باعث اسمگل شدہ اور غیر معیاری سگریٹوں کی فروخت تیزی سے بڑھی اور ریاستی آمدنی بھی مزید کم ہو گئی ہے۔آکسفورڈ اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں سالانہ 43 ارب کے غیر قانونی سگریٹ فروخت ہو رہے ہیں، جو سگریٹ کی قومی مارکیٹ کے نصف سے بھی زیادہ بنتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں