فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ سے جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اور احمد ندیم ارشد نے محکمہ پولیس کی جانب سے انٹر کورٹ اپیل مسترد کر دی’ فیملی کلیم پر بھرتی ہونیوالے ملازمین کو دوبارہ بحال کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ تفصیل کے مطابق والدین کی وفات کے بعد 17اے رول کے تحت محکمہ پولیس میں ملازمین کے بچوں کو 25جولائی 2024ء کو اس وقت کے سی پی او نے 22 بچوں اسد’ پرویز وغیرہ کو ریکروٹمنٹ بورڈ نے 19جولائی 2024ء کو گریڈ7 کی آسامی پر پولیس کانسٹیبل’ ڈرائیورز’ کانسٹیبل’ لیڈی کانسٹیبل کو بھرتی کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ٹریننگ کیلئے بھجوا دیا۔ مذکورہ امیدواروں نے باقاعدہ میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کر کے ٹریننگ شروع کر دی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ 19جولائی 2024ء کو مذکورہ امیدواروں کو تعینات کرنے کے احکامات جاری ہوئے اور 24جولائی 2024ء کو حکومت پنجاب نے 17اے کے تحت بھرتی پر پابندی عائد کر دی تھی۔ بعدازاں 18اکتوبر 2024ء کو فیملی کلیم پر بھرتی ہوئے امیدواروں کے تعیناتی کے آرڈر کینسل کر دیئے جو کہ ان کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے تو مذکورہ امیدواروں نے ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن کی تو مسٹر جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے رٹ پٹیشن پر محکمہ پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ انہیں ملازمت سے نکالے جانے کے احکامات کو معطل کر کے دوبارہ تعینات کیا جائے۔ تاہم محکمہ پولیس نے عدالتی فیصلے کے بعد ہائیکورٹ میں انٹرکورٹ اپیل دائر کر دی تو لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے محکمہ پولیس کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے دوبارہ تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔




