محکمہ ڈاک میں63ارب کا تضاد

اسلام آباد (بیوروچیف) محکمہ ڈاک کے آڈٹ میں 63ارب روپے کا بڑا مالیاتی تضاد سامنے آ گیا۔مالیاتی تضاد میں بینک اکائونٹس کے غیر قانونی انتظام کے 5 معاملات میں 42 ارب روپے کی خطیر رقم شامل ہے۔ تازہ ترین آڈٹ انکشافات کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران وزارت مواصلات کے زیر انتظام پوسٹل سیکٹر (محکمہ ڈاک)کے کھاتوں میں 63 ارب روپے سے زائد کی مالیاتی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ آڈٹ رپورٹ 2025-26 کے مطابق مجموعی مالیاتی بیقاعدگی کا سب سے بڑا حصہ کمرشل بینکوں کے ساتھ کھاتوں کے غیر مجاز انتظام کے 5 مختلف معاملات سے جڑا ہے جس میں 40 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم شامل ہے۔ اس کے علاوہ متفرق عنوانات کے تحت آنے والے بڑے تضادات کے 12 معاملات بھی سامنے آئے ہیں جن کی مجموعی مالیت 20 ارب روپے سے زائد ہے جبکہ واجب الوصول اور وصول نہ کی جانے والی رقوم کے 2 معاملات ہیں جن کی مالیت ایک ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں