سسٹم کی غلطی یااختیارات کا ناجائز استعمال ‘شریف شہری کے شناختی کارڈ نمبرپر5سنگین مقدمات

جڑانوالہ(صابر گھمن سے) سسٹم کی غلطی یا ناقص مینجمنٹ کا نتیجہ کریکٹر سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے جانیوالا شہری 5 سنگین مقدمات میں ریکارڈ یافتہ نکلا،پولیس کی جانب سے مذکورہ شہری کا شناختی کارڈ نمبر 5 ملزمان کے الگ الگ ناموں کیلئے استعمال کئے جانے پر شہری حواس باختہ ہو گیا،تفصیلات کے مطابق پولیسنگ سسٹم کی غلطیوں اور مقدمات کا اندراج درست کرنے کیلئے کمپیوٹر سسٹم کا نظام مبینہ طور پر ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے آئے روز سامنے آنیوالے انکشافات نے کمپیوٹر سسٹم کی غلطی اور تفتیشی افسران کی جانب سے مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں ذرائع کے مطابق جڑانوالہ تھانہ سٹی کے علاقے علوی پارک کا رہائشی شہری حیدر علی کریکٹر سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے خدمت مرکز گیا تو ڈیسک پر موجود ڈیوٹی افسر نے اسے بتایا کہ آپ کے خلاف سنگین نوعیت کے پانچ مقدمات درج ہیں ریکارڈ حاصل کرنے پر انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ شہری کے شناختی کارڈ 33104/1889203/3 نمبر پر پانچ الگ الگ مقدمات کا اندراج کرتے ہوئے پانچ مختلف ناموں کا استعمال کیا گیا ہے حاصل کردہ کمپوٹررائرز ریکارڈ کے مطابق مذکورہ شہری کے شناختی کارڈ نمبر پر تھانہ سٹی جڑانوالہ میں 3 مقدمات جن میں 52/20 مورخہ 15/1/2020،مقدمہ نمبر 28/20 مورخہ 08/01/2020, مقدمہ نمبر 22/20 مورخہ 07/01/2020 اندراج کیا گیا ہے یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ شہری کے شناختی کارڈ نمبر پر کریمینل ریکارڈ نمبر 23010 کے مطابق فاروق ولد منظور حسین پر چوری کا مقدمہ، 53920 کے مطابق عرفان ولد عبدالرحمن راہزنی،54041 کے مطابق راہزنی کے مقدمہ میں وقاص ولد نیاز،54231 کے مطابق چوری کے مقدمہ میں عاطف ولد سردار علی جبکہ 54232 کے مطابق لڑائی جھگڑے کے مقدمہ میں زبیع اللہ ولد رحمت کا اندراج کیا گیا ہے،شناختی کارڈ نمبر پر 5 مقدمات میں پانچ مختلف ملزمان کے ناموں کے اندراج پر متاثرہ شہری نے سی پی او فیصل آباد کو بھی درخواست گزار دی ہے کہ اسکے شناختی کارڈ نمبر پر درج غلط ڈیٹا ریکارڈ حذف کیا جائے یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پولیسنگ سسٹم میں مبینہ طور پر شریف النفس شہری کے شناختی کارڈ نمبر کے غلط استعمال و اندراج نے تفتیشی افسران کے جانب مبینہ ناجائز اختیارات کو استعمال کرنے کو بھی صاف عیاں کر دیا ہے ایسی صورتحال میں افسران بالا کو کمپیوٹر سسٹم کی غلطی و خرابی کو ختم اور تفتیشی افسران کی جانب سے مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال کی روک تھام کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنیوالے وقت میں کوئی بے گناہ شہری اس خراب سسٹم کی بھینٹ نہ چڑھ سکے اور اس کا مستقبل و زندگی دائو پر نہ لگ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں