اسلام آباد(بیورو چیف)وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے بدھ کو یہاں وزارت خزانہ میں ملاقات کی،جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال، حکومت کے جاری اصلاحاتی ایجنڈے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و ترقیاتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مختلف پہلوئوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔فنانس ڈویژن سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ نے پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام میں برطانیہ کی مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی نظم و نسق، مالیاتی اصلاحات، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، سرکاری مالیاتی انتظام، صحت اور سماجی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں دیرینہ شراکت داری کو قابل قدر قرار دیا۔ملاقات میں پاکستان کی حالیہ معاشی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جس میں وفاقی بجٹ 2026-27کی منظوری، مالیاتی نظم و ضبط کے لیے جاری اقدامات اور معاشی استحکام برقرار رکھتے ہوئے پائیدار اقتصادی ترقی پر مبنی حکمت عملی شامل ہے۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ساختی اصلاحات پر عملدرآمد، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، سرکاری مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔فریقین نے آبادی کے انتظام اور صحت عامہ سے متعلق حکومتی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خزانہ نے ان شعبوں میں برطانیہ کی مسلسل تکنیکی معاونت خصوصاً آبادی میں توازن پیدا کرنے سے متعلق پروگراموں میں تعاون کو سراہا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو واضح اہداف پر مبنی مربوط قومی فریم ورک کے تحت ادارہ جاتی شکل دینا ضروری ہے جبکہ خواتین کی تعلیم، افرادی قوت میں ان کی شمولیت اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی بہترین تجربات سے بھی استفادہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان شعبوں میں مسلسل تعاون انسانی ترقی کے بہتر نتائج اور پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔وزیر خزانہ نے حکومت کی اس حکمت عملی پر بھی روشنی ڈالی جس کا مقصد بین الاقوامی سرمایہ جاتی منڈیوں تک رسائی کو مزید وسعت دینا اور مالی وسائل کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت درمیانی مدت کی قرض جاتی حکمت عملی کے تحت بین الاقوامی بانڈز، سکوک، پانڈا بانڈز اور خودمختار قرضوں کی ٹوکنائزیشن جیسے جدید مالیاتی ذرائع پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کو مزید مستحکم بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔ملاقات میں ایف بی آر میں جاری اصلاحات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی، فیس لیس، مصنوعی ذہانت (اے آئی)سے مزین اور رسک بیسڈ نظام متعارف کرا رہی ہے جس کا مقصد شفافیت میں اضافہ، صوابدیدی اختیارات میں کمی، ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنا اور محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔گفتگو کے دوران توانائی کے شعبے میں اصلاحات، منتخب سرکاری اداروں کی نجکاری اور عوامی اداروں میں گورننس، کارکردگی اور خدمات کی فراہمی بہتر بنانے سے متعلق اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ اصلاحات پاکستان کی طویل المدتی معاشی مضبوطی اور کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان کی معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے برطانیہ کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی منڈیوں اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔وزیر خزانہ نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کے تسلسل، سرمایہ کاری کے فروغ اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں و سرمایہ کاروں کے ساتھ موثر رابطے جاری رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات کے اختتام پر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں قریبی تعاون اور دیرینہ دوطرفہ شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مسلسل رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔




