پاکستانی چاول کی عالمی منڈی میں طلب بڑھ گئی

کراچی (بیورو چیف) ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے مالی سال 2025ـ26 کے دوران ملکی کرنٹ اکاؤنٹ میں 139 ملین ڈالر کے خسارے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ تجارتی خسارہ بڑھنے کے باعث بیرونی کھاتہ دوبارہ منفی ہوا ہے، تاہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر نے ملک کی بیرونی مالی پوزیشن کو مضبوط سہارا فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ نہ ہوتا تو پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے حوالے سے کہیں زیادہ.مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران درآمدات میں نمایاں اضافے جبکہ برآمدات میں توقع کے مطابق پیش رفت نہ ہونے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا گیا، جو معاشی پالیسی سازوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیے بغیر پائیدار معاشی استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا، اس لیے حکومت کو برآمدی شعبے کی لاگت کم کرنے، توانائی کے نرخوں میں مزید کمی، ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور صنعت دوست پالیسیاں متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ملک محمد بوستان نے کہا کہ مجموعی برآمدات میں نمایاں اضافہ نہ ہونا تشویشناک ہے، تاہم چاول کی برآمدات میں ہونے والا اضافہ خوش آئند ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی باسمتی اور نان باسمتی چاول کی عالمی منڈی میں طلب بڑھ رہی ہے، لہٰذا حکومت کو چاول کے برآمد کنندگان کو مزید سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں تاکہ اس شعبے کی برآمدات میں مزید اضافہ ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل، چمڑا، انجینئرنگ، آئی ٹی اور زرعی مصنوعات سمیت دیگر برآمدی شعبوں کی مکمل سرپرستی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر برآمدات کا دائرہ وسیع نہ کیا گیا تو بڑھتی ہوئی درآمدات مستقبل میں زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔ملک محمد بوستان نے پیٹرول کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پیٹرول کی قلت کا تاثر درست نہیں، بلکہ بعض آئل مارکیٹنگ کمپنیاں کمیشن میں اضافے کے مطالبے کے باعث سپلائی محدود کر رہی ہیں، جس سے مصنوعی بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چار ہزار سے زائد رجسٹرڈ پیٹرول پمپ موجود ہیں، جبکہ غیر رجسٹرڈ (دو نمبر) پمپوں کی تعداد کا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں۔ یہ غیر قانونی پمپ مبینہ طور پر اسمگل شدہ پیٹرول اور ڈیزل فروخت کر رہے ہیں، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ملک محمد بوستان نے بتایا کہ اوگرا کی ہدایات پر تقریباً چار ہزار رجسٹرڈ پیٹرول پمپوں پر ڈیجیٹل میٹرز نصب کیے جا چکے ہیں، تاہم پرانے ڈسپنسرز کو جدید ڈسپنسرز سے تبدیل کرنے میں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں کر رہیں۔ ان کے مطابق نئے ڈسپنسرز میں قیمتوں میں ردوبدل ممکن نہیں، جبکہ پرانے ڈسپنسرز کے ذریعے بعض عناصر ناجائز منافع کما رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام رجسٹرڈ پیٹرول پمپ روزانہ فروخت اور دستیاب اسٹاک کا ڈیٹا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فراہم کرتے ہیں، جو اوگرا اور ایف بی آر کو بھی بھیجا جاتا ہے۔ ہر رجسٹرڈ پمپ کو ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے لیے دو موبائل فون فراہم کیے گئے ہیں تاکہ فروخت اور ذخائر کی آن لائن نگرانی کی جا سکے، جبکہ ریکارڈ اور اسٹاک میں فرق سامنے آنے پر متعلقہ پمپ کے خلاف جرمانہ اور قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔ملک محمد بوستان نے کہا کہ اس وقت پیٹرول کی طلب کا سب سے زیادہ دباؤ پنجاب میں ہے، تاہم ملک میں مجموعی طور پر پیٹرولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اسمگل شدہ پیٹرول کی فروخت کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، جدید ڈسپنسرز کی جلد تنصیب، برآمدات میں اضافے کے لیے خصوصی مراعات اور درآمدات میں غیر ضروری اضافے پر قابو پا کر معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں