اجنٹینا کو شکست،سپین فیفا ورلڈ کپ کا چیمپئن بن گیا

نیویارک(سپورٹس نیوز) فیفا ورلڈکپ 2026کے فائنل میں اسپین نے دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کو 0-1سے شکست دے کر دوسری بار ورلڈکپ جیت لیا۔نیویارک میں کھیلے گئے فیصلہ کن معرکے کے پہلے ہاف کی ابتدا میں اسپین کی ٹیم چھائی رہی جس نے دفاعی چیمپئن ٹیم کے گول پر کئی حملے کیے لیکن سبقت حاصل نہ کرسکی۔اس ہاف میں اسپین کا دفاع اتنا مضبوط رہا کہ ارجنٹینا کو حریف ٹیم کے گول پر ایک بھی شاٹ لگانے کا موقع نہ مل سکا۔وقفے پر مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہا۔دوسرے ہاف میں بھی یہی صورتحال رہی ،کھیل کا مقررہ وقت ختم ہونے سے قبل اسپین کے کھلاڑی پر فال کرنے کے سبب ارجنٹینا کے فرنانڈس کو ریفری نے ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا جس کے بعد ارجنٹینا کی ٹیم کو بقیہ وقت میں 10 کھلاڑیوں سے کھیلنا پڑا۔ارجنٹینا کی ٹیم اس ہاف میں بھی اسپین کے گول کی جانب ایک شاٹ بھی نہیں لگاسکی ۔کھیل کا ریگولر ٹائم بغیر کسی گول کے ختم ہوگیا۔اضافی وقت کے پہلے ہاف میں بھی مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہا، پھر آیا اضافی وقت کا دوسرا اور فیصلہ کن ہاف جس کی ابتدا میں ہی اسپینش کھلاڑی فیرن ٹوریس کو گول کرنے کا موقع مل گیا جو انہوں نے ضائع نہیں کیا۔خسارے میں جانے کے بعد ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے گول کرنے کی بہت کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے۔یوں دفاعی چیمپئن ٹیم ایک صفر سے شکست کے نتیجے میں اعزاز برقرار نہ رکھی سکی اور اسپین کی ٹیم 16 برس بعد دوسری مرتبہ چیمپئن بن گئی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی فٹبال چیمپئن اسپین کو ٹرافی اور کھلاڑیوں کو ایوارڈز دیے۔اسپین کے پال کوبارسی کو ینگ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ دیا گیا جبکہ اسپین کے انائی سائمن نے بہترین گول کیپر کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔ اسپین کے کپتان اور مڈفیلڈر روڈری نے فیفا ورلڈکپ 2026 کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ’گولڈن بال’ جیت لیا۔ میسی دوسرے نمبر پر رہے اور سلور بال اپنے نام کی۔فرانس ٹیم کے اسٹار فٹبالر ایمباپے نے گولڈن بوٹ ایوارڈ جیت لیا۔ وہ 2 مرتبہ یہ اعزاز جاصل کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے۔ایمباپے نے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 10گول کیے۔ ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی نے 8 گول اسکور کیے۔ فیفا ورلڈکپ کے فائنل میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کو شکست دیکر ورلڈکپ چیمپئن بننے والے اسپین نے منفرد اعزاز حاصل کرلیا۔ اسپین فٹبال کا بیک وقت مینز اور ویمنز ورلڈ چیمپئن بننے والا پہلا ملک بن گیا۔اسپین نے 2023 میں ویمنز کا فٹبال ورلڈ کپ بھی جیتا تھا۔ اسپین پورے ٹورنامنٹ میں صرف ایک گول دے کر اعزاز جیتنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔اسپین کے خلاف ورلڈ کپ میں صرف ایک گول اسکور ہوا۔ 8 میچز میں کوئی بھی ٹیم اسپین کے خلاف برتری حاصل نہ کرسکی۔اسپین کے خلاف فیفا ورلڈکپ کے فائنل میں ارجنٹینا کی ٹیم 90 منٹ میں گول پر ایک شاٹ بھی نہ مار سکی۔اسپین نے 90 منٹس میں ٹارگٹ پر 9 شاٹس سمیت مجموعی 15 شاٹس گول کی جانب لگائے۔اس کے ساتھ ہی ارجنٹینا ورلڈ کپ فائنل کے 90 منٹ میں ایک شاٹ بھی گول پر نہ لگانے والی پہلی ٹیم بن گئی۔فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں اسپین کی تاریخی فتح نے دارالحکومت میڈرڈ سمیت مختلف شہروں کو جشن کے ایک عظیم منظر میں بدل دیا۔ شدید گرمی، رات کا وقت اور اگلے روز کام کی پروا کیے بغیر لاکھوں شائقین سڑکوں، چوراہوں، پارکوں اور عوامی مقامات پر جمع ہوئے اور جیسے ہی اسپین نے عالمی ٹائٹل اپنے نام کیا شہر خوشیوں کے نعروں سے گونج اٹھا۔رات گئے بھی درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب تھا لیکن اس کے باوجود سرخ اور زرد پرچم تھامے ہزاروں افراد بڑے بڑے اسکرینوں کے سامنے موجود رہے۔میڈرڈ کے مشہور پلازا ڈی کولون میں سب سے بڑا مجمع دیکھنے میں آیا جہاں شائقین نے ایک ساتھ بیٹھ کر فائنل کا ہر لمحہ دیکھا۔فائنل کا مقابلہ توقعات کے برعکس کافی سخت اور دفاعی انداز میں کھیلا گیا جس کے باعث کئی مواقع پر شائقین بے چینی کا شکار بھی ہوئے تاہم اضافی وقت کے 106ویں منٹ میں فیران ٹوریس کے فیصلہ کن گول نے پورا منظر بدل دیا۔گول ہوتے ہی پورا چوک نعروں، تالیوں اور آتش بازی کی روشنی سے جگمگا اٹھا۔ لوگ ایک دوسرے کے گلے لگ گئے خوشی سے آنسو بہنے لگے اور برسوں بعد دوبارہ ورلڈ کپ جیتنے کا خواب حقیقت میں بدل گیا۔اگرچہ اسپین کا ایک اور گول بعد میں مسترد بھی کر دیا گیا مگر اس وقت تک فتح تقریبا یقینی ہو چکی تھی۔آخری سیٹی بجتے ہی پلازا ڈی کولون میں موجود ہزاروں افراد، پولیس اہلکار، ریسکیو ٹیمیں اور عام شہری سب ایک ساتھ جشن میں شریک ہو گئے۔ ہر طرف لا روخا کے نعرے گونج رہے تھے اور میڈرڈ کی سڑکیں سرخ و زرد رنگ میں رنگی نظر آئیں۔یہ فتح صرف ایک ٹائٹل نہیں بلکہ اسپین کے لیے ایک تاریخی لمحہ بن گئی جس نے پورے ملک کو ایک بار پھر فٹبال کے رنگ میں رنگ دیا اور رات بھر جاری رہنے والی تقریبات نے ثابت کر دیا کہ ورلڈ کپ کی خوشی اسپین کے لیے کسی قومی تہوار سے کم نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں