دنیا بھر میں مقیم کشمیری ہر سال یوم الحاق پاکستان بھرپور جذبہ حب الوطنی اور ملی یکجہتی کے ساتھ مناتے ہیں۔ یہ دن کشمیری عوام کی اس تاریخی خواہش کی یاد تازہ کرتا ہے کہ وہ اپنی سیاسی’ ثقافتی اور مذہبی وابستگی کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس موقع پر مختلف ممالک میں سیمینارز’ ریلیاں اور دعائیہ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جن کا مقصد مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرنا ہوتا ہے۔ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم الحاق پاکستان بھرپور انداز میں منایا اور اس عہد کی تجدید کی گئی کہ بھارتی تسلط سے آزادی اور جموں وکشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی منظور ہونے والی قرارداد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رہے گی۔ یوم الحاق پاکستان کے موقع پر آزاد جموں وکشمیر’ پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے مختلف تقریبات’ سیمینارز’ ریلیوں’ دعائیہ اجتماعات اور خصوصی پروگراموں کا انعقاد بھی کیا۔ ان تقریبات کا مقصد کشمیری عوام کی تاریخی جدوجہد’ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرنا ہے۔ یوم الحاق پاکستان کو آزاد جموں وکشمیر میں خصوصی اہمیت حاصل ہے، اس دن کی مناسبت سے قومی عمارتوں پر قومی اور کشمیری پرچم لہرائے گئے، شہداء کشمیر کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا جبکہ کشمیری عوام نے اپنی سیاسی وابستگی اور حق خود ارادیت کے مطالبے کا اعادہ کیا۔ یہ دن ریاست جموں وکشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ریاست جموں وکشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ 19 جولائی 1947ء کو آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے نمائندہ اجلاس میں ایک تاریخی قرار داد منظور کی گئی تھی جس میں ریاست جموں وکشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ اجلاس سری نگر میں سردار محمد ابراہیم خان کی رہائشگاہ پر منعقد ہوا تھا، جہاں کشمیری قیادت نے برصغیر کی تقسیم کے تناظر میں ریاست کے مستقبل کے بارے میں اپنا موقف پیش کیا۔ 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے وقت ریاست جموں وکشمیر ایک علیحدہ ریاست تھی، جہاں مسلمان آبادی اکثریت میں تھی جبکہ حکمران مہاراجا ہری سنگھ تھا۔ برصغیر کی تقسیم کے دوران ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کریں، اسی تناظر میں 19جولائی 1947ء کو آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس نے قرارداد الحاق پاکستان منظور کی، جسے پاکستان اور آزاد کشمیر میں کشمیری عوام کی سیاسی امنگوں کا تاریخی اظہار قرار دیا جاتا ہے۔ بعدازاں اکتوبر 1947ء میں ریاست کے حالات تیزی سے تبدیل ہوئے اور تحریک آزادی کشمیر کا باقاعدہ آغاز ہوا اور پھر 24 اکتوبر 1947ء کو آزاد کشمیر کی نمائندہ حکومت کا اعلان کیا گیا۔ اس تنازع کے بعد کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں پہنچا جہاں سلامتی کونسل کے کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے سے متعلق متعدد قراردادیں منظور کیں۔ تاہم یہ مسئلہ آج بھی جنوبی ایشیا کے اہم ترین تنازعات میں شمار ہوتا ہے اور پاکستان وبھارت کے درمیان بنیادی اختلافات کا مرکز ہے۔ کشمیر کا تنازع گزشتہ 7دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جنوبی ایشیا کے امن واستحکام سے جڑا ایک اہم بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں پاکستان اور بھارت کے مختلف سفارتی اقدامات اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے باوجود یہ تنازع اب تک حل طلب ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جائے۔ اس سلسلے میں پاکستان کا موقف ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ ایک ایسا انسانی مسئلہ ہے جس کا براہ راست تعلق لاکھوں کشمیریوں کے بنیادی حق خودارادیت سے ہے جو انہیں اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے تحت حاصل ہے، پاکستان میں حکومت اور عوام ہر سال یوم الحاق کشمیر’ یوم شہدائے کشمیر اور یوم یکجہتی کشمیر جیسے مواقع پر کشمیریوں کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہیں تاکہ عالمی برادری کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول رہے جسے فراموش کرانے کے لیے بھارت ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ عالمی اداروں اور بین الاقوامی برادری کی بے حسی کے جواب میں حریت رہنمائوں اور کشمیری سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں ملتا خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں اور یوم الحاق کشمیر جیسے دن اسی امید اور عزم کی علامت ہیں کہ کشمیری عوام کی جدوجہد بالآخر رنگ لائے گی۔ یوم الحاق پاکستان اس حقیقت کی یاد دہائی بھی کراتا ہے کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے اہم ترین تنازعات میں سے ایک ہے، جس کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہ بات ضروری ہے کہ عالمی برادری خطے میں امن’ انصاف اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دلایا جائے۔




