کافی اور چائے دل کی صحت کے لئے مفیدقرار

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ماہرین کی نئی تحقیق کے مطابق روزانہ معتدل مقدار میں کافی پینا زیادہ تر افراد کے لیے دل کے لحاظ سے محفوظ ہے، بلکہ بعض صورتوں میں یہ دل کی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے20جولائی2026کو اپنے سائنسی جریدے سرکولیشن میں شائع ہونے والے بیان میں کیفین اور دل کی بیماریوں سے متعلق تازہ ترین شواہد کا جائزہ پیش کیا۔تحقیق کے مطابق روزانہ 400 ملی گرام تک کیفین، جو تقریباً پانچ آٹھ اونس کے کپ کافی کے برابر ہے، زیادہ تر بالغ افراد کے لیے محفوظ سمجھی جاتی ہے۔تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو کے پروفیسر ڈاکٹر گریگوری مارکس نے کہا کہ جو لوگ باقاعدگی سے کیفین والی کافی یا چائے پیتے ہیں، انہیں اس بات پر مطمئن رہنا چاہئے کہ یہ مشروبات عموما دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ نہیں کرتے، بلکہ بعض صحت بخش فوائد بھی فراہم کر سکتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ ایک سے تین کپ کافی پینے سے ایسے افراد جن کا بلڈ پریشر پہلے سے معمول پر ہو، بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ اس سے زیادہ مقدار بعض صورتوں میں بلڈ پریشر کم ہونے سے بھی منسلک دیکھی گئی۔ماہرین کے مطابق بغیر فلٹر کی گئی کافی میں موجود کیفیسٹول نامی مرکب نقصان دہ کولیسٹرول (ایل ڈی ایل)کی سطح بڑھا سکتا ہے، جبکہ کافی کے بعض فوائد صرف کیفین نہیں بلکہ اس میں موجود دیگر قدرتی اجزا کی وجہ سے بھی حاصل ہوتے ہیں۔تحقیق کے مطابق کافی کے استعمال سے ٹائپ ٹو ذیابیطس، دل کی بے ترتیب دھڑکن (ایٹریئل فبریلیشن)، دل کے دورے اور فالج کے خطرات میں کمی کے شواہد زیادہ مضبوط ہیں تاہم کیفین بعض افراد میں دل کی کچھ اقسام کی بے ترتیب دھڑکن بھی پیدا کر سکتی ہے۔ماہرین نے خبردار کیا کہ روزانہ 400 ملی گرام سے زیادہ کیفین کا استعمال صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، خصوصا انرجی ڈرنکس اور زیادہ کیفین والے مشروبات کے ذریعے یہ حد آسانی سے عبور ہو جاتی ہے۔ڈاکٹر گریگوری مارکس کے مطابق انرجی ڈرنکس پر کافی کے مقابلے میں کم تحقیق ہوئی ہے، تاہم دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مشروبات فائدے کے بجائے نقصان پہنچانے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اوسط امریکی روزانہ 200 ملی گرام سے کم کیفین استعمال کرتے ہیں، اس لیے زیادہ تر کافی پینے والوں کے لیے محفوظ حد تک کافی گنجائش موجود ہے، تاہم اس بات پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ کافی میں شامل دیگر اجزا، جیسے چینی یا کریم، صحت پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں