امریکہ ایران کشیدگی کا خاتمہ’ وقت کی اہم ضرورت (اداریہ)

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تنائو نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں امن واستحکام کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔ ایسے حالات میں دس روزہ جنگ بندی کی تجویز ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے کیونکہ مسلسل جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ مزید تباہی’ انسانی جانوں کے ضیاع اور معاشی بحران کا سبب بنتی ہے۔ امریکی فوج نے ایران کے خلاف گزشتہ رات بھی حملے کئے جس میں میزائل وڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ دنیا کی عالمی طاقتیں خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کے مستقل ارکان اس تنازع کے حل کیلئے سنجیدہ اور مؤثر کردار ادا کریں۔ اس ضمن میں پاکستان جیسے ثالث کی خصوصی کاوشیں قابل ستائش ہیں مگر محض ثالثی کافی نہیں جب تک فریقین خود اپنی پالیسیوں پر مکمل غور کرنے کو تیار نہ ہوں۔ عالمی معیشت پہلے ہی مختلف بحرانوں کی زد میں ہے اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اسے مزید غیر مستحکم بنا سکتا ہے ایسے میں وقت کا یہ تقاضا ہے کہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دیا جائے اس سے پہلے کہ حالات ناقابل تلافی نقصان کی طرف بڑھ جائیں، دوسری جانب پاسداران انقلاب کا کہنا تھا کہ جب تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی اس وقت تک آبنائے ہرمز ایندھن کی ترسیل کیلئے محفوظ نہیں۔ امریکہ نے ایران تنازعہ کے سفارتی حل کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران رویہ بدلے تو سفارت کاری ممکن ہے، ایران آبنائے ہرمز کو بطور دبائو استعمال کر رہا ہے، تنازع کا واحد حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہے، ایران کو ثالثی کرنے والے ممالک کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تجاویز بھی موصول ہوئی ہیں۔ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بھی ہو رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں خطرات مول نہیں لے سکتے، فیصلے درست اور مکمل حساب کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔ ایرانی اعلیٰ عہدیداران کے مطابق مذاکرات کاروں نے دس روزہ جنگ بندی کی تجویز دی ہے۔ ایران’ امریکہ عبوری معاہدے کی بحالی’ ایران امریکہ کشیدگی میں کمی کی تجویز پیش کی۔ جنگ بندی کا مقصد مفاہمتی یادداشت کو بحال کرنے کے طریقے تلاش کرنا ہے۔ جنگ بندی کی تجویز میں آبنائے ہرمز کو دس دنوں سے دو ہفتوں کیلئے کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ کشیدگی کے دوران بھی امریکہ کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے فعال ہیں۔ ثالثوں کے ذریعے تجاویز ہم تک پہنچائی گئی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات’ سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے اختلافات حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر دس روزہ جنگ بندی کو سنجیدہ مذاکرات کی بنیاد بنایا جائے تو نہ صرف خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے بلکہ عالمی برادری بھی ایک نئے اور خطرناک تصادم سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ امن’ تحمل اور مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو دیرپا استحکام اور انسانی فلاح کی ضمانت بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں