کیلیفورنیا (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا آپ ٹیلی ویژن (ٹی وی) کے سامنے زیادہ وقت گزارتے ہیں تو یہ عادت وقت کے ساتھ نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے، خاص طور پر دماغ کے لیے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ گھنٹوں ٹی وی کے سامنے گزارنے سے وقت کے ساتھ دماغ میں منفی تبدیلیاں آتی ہیں۔اس تحقیق میں 1700 سے زائد بالغ افراد کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 53 سال تھی۔ان افراد سے یہ معلوم کیا گیا کہ وہ روزانہ کتنے وقت تک ٹی وی دیکھتے ہیں جبکہ تحقیق کے آغاز اور پھر 20 سال بعد ان کے دماغوں کے ایم آر آئی اسکین بھی کیے گئے۔تحقیق کے دوران ان افراد کی صحت کا جائزہ 20 سال سے زائد عرصے تک لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیادہ وقت تک ٹی وی دیکھنے والے افراد کے دماغ میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جن کو دماغی تنزلی اور ڈیمینشیا سے منسلک کیا جاتا ہے۔درحقیقت جو افراد بہت کم وقت تک ٹی وی دیکھتے ہیں، ان کے مقابلے میں ٹیلی ویژن کے سامنے زیادہ وقت گزارنے والے افراد کے دماغ میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جن کو بڑھاپے، فالج، دماغی تنزلی اور ڈیمینشیا سے منسلک کیا جاتا ہے۔اسی طرح ان افراد کے یادداشت، سوچنے اور بصری تجزیہ کرنے والے دماغی خطوں کا حجم بھی دیگر کے مقابلے میں گھٹ جاتا ہے۔مگر محققین کے مطابق ہم نے دریافت کیا گیا کہ ہر قسم کی ایسی سرگرمی جس میں بیٹھ کر وقت گزارا جاتا ہے، ان کے اثرات یکساں نہیں ہوتے، بلکہ آپ کیسے بیٹھ کر وقت گزارتے ہیں، اس کا ضرور دماغی صحت اور دماغی ساخت سے تعلق ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم دن کا بیشتر وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں اور اوسطا بیداری کا 50 فیصد وقت بیٹھ کر ہی گزارتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم کہاں بیٹھے ہیں اور کیسے وقت گزار رہے ہیں، اس سے دماغ پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔محققین کے مطابق ہم نے یہ بھی دریافت کیا کہ کام کے لیے بیٹھ کر وقت گزارنے والے افراد کے دماغوں میں ایسی منفی تبدیلیاں بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ عموما خواتین اپنا زیادہ وقت ٹی وی دیکھتے ہوئے گزارتی ہیں مگر اس دوران وہ گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہیں جبکہ مرد مسلسل بیٹھ کر ٹی وی دیکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عہد میں یہ عادت اس لیے زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ ہم بیک وقت متعدد اسکرینوں کے ساھت مصروف رہتے ہیں۔محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کے نتائج کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس میں وجہ کو ثابت نہیں کیا جاسکا جبکہ لوگوں کے بتائے گئے ڈیٹا پر انحصار کیا گیا۔




