کراچی (بیوروچیف) دوا لینے کے باوجود اگر بلڈ پریشر قابو میں نہیں آ رہا تو اس کی وجہ صرف موروثی عوامل یا دوا کی کمی نہیں بلکہ روز مرہ کی چند عام عادتیں بھی اس مسئلے کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر ایک خاموش قاتل بیماری ہے جو دل، دماغ، گردوں اور دیگر اہم اعضا کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔اس پر قابو پانے کے لیے درج ذیل 5 عام غلطیوں سے بچنا ضروری ہے۔ صرف کھانے میں نمک کم کرنا کافی نہیں، ڈبل روٹی، انسٹینٹ نوڈلز، سوپ، اچار، پاپڑ اور ناشتے کی کئی تیار غذائوں میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہے۔پوٹاشیئم جسم سے اضافی نمک خارج کرنے اور خون کی نالیوں کو آرام دینے میں مدد دیتا ہے، سبز پتوں والی سبزیاں، تازہ پھل اور مکمل اناج کم کھانے سے بلڈ پریشر قابو میں رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔سیڑھیاں چڑھنے، ذہنی دبائو کی حالت میں یا ٹانگیں کراس کر کے بیٹھ کر بلڈ پریشر چیک کرنے سے نتائج درست نہیں آتے، پیمائش سے پہلے کم از کم 5 منٹ پرسکون ہو کر بیٹھیں، پاں زمین پر رکھیں، بازو دل کی سطح پر ہو اور پیمائش کے دوران بات نہ کریں۔مسلسل ذہنی دبائو کے باعث جسم میں تنائو پیدا کرنے والے ہارمونز بڑھ جاتے ہیں جس سے دل تیزی سے دھڑکتا ہے اور خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، نتیجتاً بلڈ پریشر مسلسل بلند رہ سکتا ہے۔گہری نیند کے دوران بلڈ پریشر قدرتی طور پر 10 سے 20 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔روزانہ 6 گھنٹے سے کم نیند لینے سے جسم کو یہ قدرتی آرام نہیں ملتا جس سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف دوا پر انحصار کافی نہیں، بلکہ متوازن غذا، مناسب نیند، ذہنی دبائو میں کمی اور درست طرزِ زندگی اپنانے سے ہائی بلڈ پریشر کو موثر انداز میں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔




