جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنیکی ضرورت (اداریہ)

جدید دور میں جنگ اور دفاع کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جہاں روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی’ سائبر سکیورٹی’ مصنوعی ذہانت اور جدید دفاعی نظام فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں خودمختاری کے مؤثر تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانوس سسٹمز کی ترقی کے لیے سپارک اینڈ ایلیوٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، پاکستان دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی کا محتاج نہیں، مسلح افواج نے معرکہ حق میں آٹونومس سسٹمز اور سائبر سکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط’ سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہو گی، ٹیکنالوجی کا انقلاب چند بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، معرکہ حق میں افواج نے جدید آٹونوس سسٹمز اور سائبر سکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں’ بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، جدت کو قابل عمل میں بدل کر عوام کی زندگی آسان بنائیں گے، انتھک محنت سے آئندہ نسلوں کے لیے روشن اور خوشحال پاکستان بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانوس سسٹمز ایکسپو میں شرکت میرے لیے باعث مسرت ہے، اس سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21 ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے حکومتی نمائندوں’ ٹیکنالوجی’ لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہو گی، اس جہت نے اکیڈمیا’ انڈسٹری’ سٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں، زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عملدرآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا ہے۔ آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔ بلاشبہ قومی خودمختاری کا تحفظ صرف مضبوط افواج کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی’ سائنسی تحقیق’ مقامی دفاعی صنعت اور قومی اتحاد سے بھی وابستہ ہے۔ اگر حکومت’ دفاعی ادارے’ جامعات اور تحقیقاتی مراکز باہمی تعاون سے جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر توجہ دیں تو پاکستان اپنے دفاع کو مزید مضبوط اور مؤثر بنا سکتا ہے۔ یہی حکمت عملی ملک کی سلامتی’ استحکام اور خودمختاری کے تحفظ کی مضبوط ضمانت ثابت ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں