گوگل کا نیا سکیورٹی فیچر متعارف

کیلفیورنیا (مانیٹرنگ ڈیسک) گوگل نے اپنے صارفین کی سہولت کیلئے ایک نیا سیکیورٹی فیچر متعارف کرادیا ہے، اگر آپ پاس ورڈ بھول جائیں تو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔گوگل کے مطابق کمپنی نے اپنے صارفین کے اکائونٹس کو مزید محفوظ بنانے کے لیے “سیلفی ویڈیو کے نام سے ایک نیا سیکیورٹی فیچر متعارف کرا دیا ہے۔اس نئے فیچر کو متعارف کرانے کا مقصد اکائونٹ چوری، ڈیپ فیک حملوں اور غیر مجاز رسائی کی کوششوں کو روکنا ہے۔کمپنی کے مطابق یہ فیچر اس وقت مددگار ثابت ہوگا جب صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، موبائل فون گم ہو جائے یا اکائونٹ ریکوری کے دیگر روایتی ذرائع دستیاب نہ ہوں۔ایسی صورت میں سیلفی ویڈیو اکائونٹ تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک اضافی بائیومیٹرک تصدیقی طریقہ فراہم کرے گی۔گوگل کا کہنا ہے کہ یہ نظام عام سیلفی تصویر کے بجائے صارف سے ایک مختصر لائیو ویڈیو ریکارڈ کروائے گا، جس میں مخصوص انداز سے سر یا چہرے کی حرکت کرنا ہوگی۔اس عمل کے ذریعے جدید لائیونیس چیک اور ڈیپ فیک ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی اس بات کی تصدیق کرے گی کہ اکائونٹ تک رسائی حاصل کرنے والا شخص حقیقی صارف ہی ہے نہ کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیو یا تصویر۔اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے صارف کو ابتدائی مرحلے میں اپنے موبائل فون، ٹیبلیٹ یا کمپیوٹر کے کیمرے کے ذریعے ایک حوالہ جاتی (ریفرنس) سیلفی ویڈیو ریکارڈ کرنا ہوگی۔ویڈیو کے دوران صارف کو چند آسان حرکات، جیسے سر کو مختلف سمتوں میں گھمانا، انجام دینا ہوں گی۔بعد ازاں گوگل اس ویڈیو سے منتخب تصاویر کو خفیہ (انکرپٹڈ) انداز میں محفوظ کرکے ایک محفوظ بائیومیٹرک پروفائل تیار کرے گا، جسے مستقبل میں شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال کیا جائے گا۔اگر کسی وقت صارف پاسورڈ ، پاسکی یا دیگر روایتی طریقوں سے اکانٹ میں لاگ اِن نہ کر سکے تو گوگل اسی محفوظ ویڈیو پروفائل کی مدد سے اس کی شناخت کی تصدیق کرے گا۔گوگل نے واضح کیا ہے کہ سیلفی ویڈیو فیچر روزانہ لاگ اِن کرنے کا متبادل نہیں ہوگا، یہ صرف ہنگامی صورتحال میں اکانٹ ریکوری کے لیے استعمال کیا جائے گا، جبکہ پاسکی، پاس ورڈ اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن (2ایف اے) جیسے موجودہ حفاظتی طریقے بدستور استعمال ہوتے رہیں گے۔کمپنی کے مطابق اس نئے فیچر کا مقصد صارفین کو زیادہ محفوظ، قابلِ اعتماد اور جدید اکانٹ ریکوری کا نظام فراہم کرنا ہے، تاکہ ہیکنگ اور ڈیپ فیک جیسے بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کا مثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں