آزاد کشمیر الیکشن’پہلا مرحلہ کل

میرپور /کراچی (نامہ نگار /بیوروچیف) آزادکشمیر میں ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مرحلہ وار ہوں گے، پہلے مرحلے میں میر پور ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں ووٹنگ کل پیر کے روز ہو گیانتخابی مہم کا وقت ختم، پرامن انتخابات کے لیے سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، 18 ہزار 560 سیکورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے، ڈویژن بھر میں 2554 پولنگ اسٹیشن اور 3701 پولنگ بوتھ قائم کر دیے گئے، جس میں سے 1241 پولنگ اسٹیشن کو انتہائی حساس، 724 کو حساس اور 351 کو نارمل قرار دیا گیا ہے، پولنگ کے لیے مطلوبہ سامان اور بیلٹ پیپرز آج روانہ کیے جائیں گے۔کمشنر میرپور ڈویژن کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کی نگرانی کے لیے پورے ڈویژن میں 13 زونز اور 205 سیکٹرز قائم اور سیکیورٹی کا 3 سطحی نظام تشکیل دیا گیا ہے۔آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے آزاد کشمیر کے لیے 10 جدید الیکٹرک بسیں فراہم کرنے کے اعلان پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ترجمان کے مطابق وفاقی اور صوبائی وزرا انتخابی مہم میں حصہ لے سکتے ہیں، تاہم انہیں سرکاری پروٹوکول، گاڑیاں، وسائل یا مشینری استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ترجمان الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فرد یا ادارے کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی، وفاقی حکومت یا کسی بھی صوبائی حکومت کی جانب سے دوران انتخابات بھیجی جانے والی گاڑیاں، سامان، امدادی اشیا یا کسی بھی نوعیت کی سہولتیں ضبط کر لی جائیں گی اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی مہم کے دوران کسی نئی ترقیاتی اسکیم، مالی پیکیج یا عوامی مفاد کے منصوبے کا اعلان ممنوع ہے۔دریں اثنا پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری کی چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفی مغل سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے مریم نواز کی تصاویر والی 10 الیکٹرک بسیں آزاد کشمیر انتظامیہ کو فراہم کیے جانے کے کی شکایت کی اور معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔تفصیلات کے مطابق آزادکشمیر میں ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مرحلہ وار ہوں گے پہلے مرحلے میں میر پور ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں ووٹنگ پیر کے روز ہوگی، میرپور ڈویژن میں 14 لاکھ 1 ہزار 439 مرد و خواتین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ضلع کوٹلی کی 6 نشستوں کے لیے 6 لاکھ 47 ہزار مرد و خواتین ووٹرز ہیں، ضلع بھمبر کی 3 نشستوں پر 3 لاکھ 42 ووٹرز جب کہ ضلع میر پور کی 4 نشستوں پر 4 لاکھ 11 ہزار ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ضلع کوٹلی میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر، پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور استحکام پاکستان پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے 135 امیدوار میدان میں ہیں، اسی طرح بھمبر کی 3 نشستوں پر 63 امیدوار جب کہ ضلع میر پور کی 4 نشستوں کے لیے 98 امیدوار پنجہ آزمائی میں مصروف ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) نے آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام امیدوار دستبردار کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا باضابطہ اعلان پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کریں گے جب کہ فاروق ستار نے سندھ کی گورنر شپ ایم کیو ایم کو دینے کا مطالبہ کر دیا۔ انتخابات میں حمایت حاصل کرنے کے لیے مسلم لیگ ن کے وفد نے ہفتے کو صوبائی صدر بشیر میمن کی سربراہی میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں ایم کیو ایم کے سنیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور دیگر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر فاروق ستار نے آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے تمام امیدوار ن لیگ کے حق میں دستبردار ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یقین ہے کہ کشمیر میں یہ انتخابات مسلم لیگ ن جیتے گی، ن لیگ جیتے گی اس کا مطلب ایم کیو ایم جیتے گی۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کے تین اہم مطالبات ہیں، ایک تو 140 اے سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیمی بل ہے، دوسرا سندھ میں گورنر شپ اور تیسرا آزاد کشمیر انتخابات جیتنے کے بعد حکومت سازی کے وقت ایم کیو ایم کو بھی شامل کیا جائے۔اس موقع پر مسلم لیگ ن سندھ کے رہنما بشیر میمن کا کہنا تھا کہ وہ مشکور ہیں کہ اتحادیوں نے ساتھ دیا، گورنر مسلم لیگ ن کا ہو یا ایم کیو ایم کا وہ سب کے گورنر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں