سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت (اداریہ)

ملک کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں نے معمول کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ موسلادھار بارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیرآب آ گئے، مکانات’ سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا جبکہ مختلف حادثات میں مزید 19افراد جان کی بازی ہار گئے، یہ صورتحال نہ صرف قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ شہری منصوبہ بندی اور پیشگی حفاظتی اقدامات کی اہمیت بھی اجاگر کرتی ہے۔ ملک کے کئی شہروں میں طوفانی بارش سے نشیبی علاقے ڈوب گئے، کئی دیہات ڈوب گئے، بجلی گھنٹوں غائب، گڑھی شاہو ریلوے کالونی میں چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 3افراد’ گجرات میں 3بہن بھائی جاں بحق’ قصور’ کامونکی’ کوٹ رادھاکشن’ سرگودھا’ بہاولنگر میں بھی ہلاکتیں’ دریائے چناب او دریائے راوی میں پانی کی سطح میں اضافے کے باعث پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، جہاں زمینی کٹائو، حفاظتی بند ٹوٹنے اور پانی آبادیوں میں داخل ہونے سے شہریوں اور کاشتکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ علی پور چٹھہ کے نواحی علاقے کوٹ بیلہ میں دریائے چناب کے سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے۔ تیز زمینی کٹائو کے باعث درجنوں مکانات خطرے کی زد میں آ گئے ہیں جبکہ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی دریا برد ہونے اور کھڑی فصلوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے کاشتکاروں کو بھاری نقصان پہنچا ہے،۔ ترنڈہ محمد پناہ کے علاقے بیٹ پرارہ میں بستی بڈا پدارہ کے قریب دریائے چناب کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، جس کے بعد سیلابی پانی تیزی سے قریبی آبادیوں میں داخل ہو گیا ہے، مقامی افراد کے مطابق کماد’ مونگ’ تل اور چارہ جات سمیت متعدد فصلیں زیرآب آ گئی ہیں جبکہ کئی بستیوں کے راستے منقطع ہونے سے مکین اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ گڑھی شاہو ریلوے کالونی اور بیدیاں روڈ پر گھروں کی چھتیں گرنے سے 3افراد جاں بحق اور 3زخمی ہو گئے۔ بارشوں کے دوران نکاسی آب’ کمزور تعمیرات’ بجلی کے کھلے تار اور متعلقہ اداروں کی غفلت جانی ومالی نقصانات میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ حکومت اور ضلعی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ہنگامی امدادی کارروائیاں تیز کرے، متاثرہ خاندانوں کی فوری مدد کرے اور شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں اور غیر ضروری طور پر خطرناک مقامات پر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ گڑھی شاہو ریلوے کالونی میں بارش کے دوران ایک افسوسناک حادثہ بھی پیش آیا، جہاں بوسیدہ گھر کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 3افراد جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق چھت گرنے کے نتیجے میں چار افراد ملبے تلے دب گئے، ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مسلسل بارش کے باعث گھر کی بوسیدہ چھت زمین بوس ہو گئی جس کے نتیجے میں یہ المناک حادثہ پیش آیا، اوکاڑہ شیرربانی ٹائون میں بارش کے دوران کھمبے میں کرنٹ آنے سے 7سالہ بچہ کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بارشوں اور دیگر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر اور دیرپا حکمت عملی اختیار کی جائے۔ نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے، غیر ضروری تعمیرات کی روک تھام کی جائے اور ہنگامی حالات میں متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنایا جائے۔ بروقت منصوبہ بندی’ ذمہ دارانہ طرز عمل اور اجتماعی کوششوں سے ہی جانی ومالی نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے اور عوام کو محفوظ ماحول بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں