غیر قانونی کالونیاں زمینوں کو نہری پانی کی فراہمی میں رکاوٹ بن گئیں

ٹھیکریوالہ(نامہ نگار)دیہی علاقوں میں تیزی سے قائم ہونے والی چھوٹی چھوٹی رہائشی کالونیوں کے باعث زرعی زمینوں کو نہری پانی کی فراہمی متاثر ہونے لگی۔ 63 مہتہ میں قائم غیر رجسٹرڈ رہائشی کالونی کے باعث نہری پانی کا کھال مکمل طور پر بند ہونے سے زمیندار شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق شہریوں کی مبینہ غفلت کے باعث نہری کھال میں کوڑا کرکٹ، بچوں کے پیمپر، پلاسٹک بیگز اور دیگر فضلہ پھینکا جا رہا ہے، جبکہ بعض مقامات پر گھروں کا گندا پانی بھی نہری کھال میں شامل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث پانی کی روانی متاثر ہو کر کھال بند ہو چکا ہے۔زمینداروں کا کہنا ہے کہ نہری پانی بند ہونے کے باعث انہیں مجبورا ٹیوب ویل کا مہنگا پانی استعمال کرنا پڑ رہا تھا، تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث اب ٹیوب ویل کا پانی بھی استعمال کرنا مشکل ہو گیا ہے، جس سے زرعی زمینیں بنجر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے.متاثرہ زمینداروں نے کہا کہ وہ باقاعدگی سے آبیانہ ادا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں نہری پانی کی سہولت دستیاب نہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی رہائشی کالونیوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور بند نہری کھال فوری بحال کروائے جائیں تاکہ زرعی زمینوں کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں