میرپور (نامہ نگار) آزاد کشمیر کے میرپور ڈویژن کی 13نشستوں میں سے 12کے غیر حتمی سرکاری نتائج سامنے آ گئے ہیں، جن میں کئی بڑے سیاسی اپ سیٹ دیکھنے میں آئے ہیں۔ حلقہ سماہنی میں بیلٹ پیپرز جلائے جانے کے واقعے کے باعث نتائج روک دیے گئے ہیں، تاہم مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری محمد رزاق کو حاصل واضح برتری کے پیش نظر اس نشست پر بھی ان کی کامیابی یقینی تصور کی جا رہی ہے۔غیر حتمی نتائج کے مطابق میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) نے 8جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 4 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔اس انتخاب میں سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق، پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین اپنی آبائی نشست چڑھوئی سے جبکہ سابق وزیر حکومت جاوید اقبال بڈھانوی بھی شکست سے دوچار ہوئے۔مسلم لیگ (ن) کے 5 امیدوار پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ ان میں چڑھوئی سے راجا محمد ریاست خان، نکیال سے سردار عمیر نعیم، سہنسہ سے راجا آصف، کھوئیرٹہ سے راجا ایاز نثار اور سماہنی سے چوہدری محمد رزاق شامل ہیں۔حلقہ چڑھوئی میں مسلسل کامیاب ہونے والے چوہدری محمد یاسین کو راجا محمد ریاست خان نے شکست دی، جبکہ پیپلز پارٹی نے اس حلقے میں دھاندلی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔نکیال میں مسلم لیگ (ن) کے سردار عمیر نعیم نے غیر متوقع مقابلے میں سابق وزیر حکومت جاوید اقبال بڈھانوی کو شکست دے دی، جس کے بعد یہ نشست ایک مرتبہ پھر سردار سکندر حیات کے خاندان، یعنی ان کے بھتیجے، کے پاس چلی گئی۔سہنسہ میں سابق وزیر حکومت راجہ نصیر خان مرحوم کے بھتیجے راجا آصف نے پیپلز پارٹی کے چوہدری اخلاق کو شکست دی، جبکہ کھوئی رٹہ سے سابق وزیر حکومت راجا نثار خان کے صاحبزادے راجا ایاز نثار نے ولید انقلابی اور نثار انصر ابدالی کو ہرا کر کامیابی حاصل کی۔ادھر سماہنی میں مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد رزاق نے مسلسل 3 بار کامیاب ہونے والے استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار علی شان سونی کو شکست دے کر پہلی بار اسمبلی تک رسائی حاصل کرلی۔




