کشمیر جنوبی ایشیا کا ایک اہم اور دیرینہ متنازع ہے، جس پر کئی دہائیوں سے اختلافات موجود ہیں۔ اس مسئلے نے خطے کے امن’ استحکام اور دونوں ممالک کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس کی حساس نوعیت کے باعث یہ مسئلہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز رہا ہے اور مختلف عالمی فورمز پر اس کے حل پر بھی گفتگو ہوتی رہی ہے۔ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے، بھارتی دھمکیاں حقائق کو نہیں بدل سکتیں، وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ زبردستی پر مبنی اور دھمکی آمیز بیان بازی کے ذریعے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی بھارتی کوششیں حقائق کو نہیں بدل سکتیں، بھارت جنوبی ایشیا میں دہشتگردی کا سب سے بڑا سرپرست اور عدم استحکام کا اصل ذمہ دار ہے، سلامتی کے دفاع کا عزم غیر متزلزل ہے۔ بھارت اسے آزمانے کی کبھی غلطی نہ کرے، بھارتی وزیردفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیانات مسترد کرتے ہیں۔ بھارتی وزیردفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سیاسی بیان بازی اور زبردستی کے رویے کے ذریعے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی ایک مسلسل کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ نہ تو بھارت کے زیرقبضہ کشمیر کی حیثیت کو بدل سکتے ہیں اور نہ ہی علاقائی امن’ استحکام یا معنی خیز مذاکرات میں کوئی تعاون پیش کرتے ہیں۔ کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ طور پر ظاہر کی گئی خواہشات کے مطابق ہونا باقی ہے۔ پاکستان کو بدنام کرنے کی بھارت کی بار بار کی جانے والی کوششیں’ ریاست کی سرپرستی میں جاری اس کی اپنی دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے ٹھوس ریکارڈ کی روشنی میں مکمل طور پر ناقابل اعتبار ہیں۔ درحقیقت بھارت جنوبی ایشیا میں دہشتگردی کا سب سے بڑا سرپرست اور عدم استحکام کا اصل ذمہ دار ہے، جس نے اپنے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے پورے خطے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اس تنازع کے حل کے حوالے سے مختلف ادوار میں سفارتی کوششیں’ مذاکرات اور دیگر اقدامات کئے، تاہم ابھی تک ایسا پائیدار حل سامنے نہیں آ سکا جس پر تمام متعلقہ فریق متفق ہوں، اس دوران کشمیری عوام کو بھی مختلف سماجی’ معاشی اور انسانی مسائل کا سامنا رہا ہے۔ پائیدار امن کے لیے سنجیدہ سفارت کاری’ مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح بھارت کی یہ غیر ذمہ دارانہ بیان بازی بھی انتہائی تشویشناک ہے جو خطے میں بین الریاستی تنازعات کے خطرے کو مزید بڑھا رہی ہے۔ پاکستان امن اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے، لیکن اپنی خودمختاری’ علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کا عزم غیر متزلزل ہے، جسے آزمانے کی غلطی کبھی نہیں کی جانی چاہیے۔ بھارتی وزیر دفاع کی یہ زبردستی کی بیان بازی دراصل بھارت کی اندرونی کشیدگی’ بڑھتی ہوئی بے چینی اور مودی کی آمرانہ وتفرقہ انگیز طرز حکومت کے خلاف عوامی غصے سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا ایسا پرامن اور دیرپا حل تلاش کیا جائے جو خطے میں امن’ استحکام اور عوام کی فلاح کا باعث بنے۔ کشیدگی میں کمی’ باہمی اعتماد’ مسلسل مذاکرات اور قانون کے مطابق پیش رفت ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔




