توانائی کے شعبے میں طویل المدتی منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے (اداریہ)

پاکستان کی توانائی ضروریات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹجک ذخائر کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات اسٹریٹجک ذخائر میں اضافے کی ہدایت ایک بروقت اور دور اندیش فیصلہ ہے۔ جس کا مقصد ملک کو کسی بھی ہنگامی صورتحال’ عالمی منڈی میں اتار چڑھائو اور رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں کیا جانے والا فیصلہ خوش آئند ہے کہ ملک میں پٹرولیم کے سٹریٹجک ذخائر میں اضافہ کیا جائے گا۔ بڑھتی ہوئی آبادی’ صنعتی ضروریات’ درآمدی ایندھن پر انحصار اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو ملکی معیشت کو دبائو میں رکھتے ہیں۔ رواں برس امریکہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے اور رسد کی مشکلات کے پیش نظر ایک بار پھر تیل کے محفوظ ذخائر میں اضافے کی ضرورت کا احساس ہو رہا ہے، پاکستان کی آبادی تقریباً 25کروڑ سے زائد ہے مگر اس حساب سے ملک میں تیل کے محفوظ ذخائر ناکافی ہیں اور اس کمی کا نتیجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ کے اتار چڑھائو ہمیں متاثر کرتے ہیں۔ نئی پٹرولیم پالیسی کے حوالے سے حکومت کو چاہیے کہ تمام متعلقہ شعبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا کی جائے، سرمایہ کاری کیلئے بھرپور اقدامات کیے جائیں اور منصوبوں کی تکمیل کیلئے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے۔ توانائی کا محفوظ اور مستحکم نظام کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر ملک میں ریفائنریوں کو جدید بنا لیا جائے خام تیل کے سٹریٹجک ذخائر تعمیر کر لیے جائیں اور صاف ایندھن کی پیداوار کو فروغ دیا جائے تو یہ نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مددگار ہو گا بلکہ ملک کو مستقبل میں عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بھی زیادہ مضبوط بنائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن وقت کی اہم ضرورت ہے، اوگرا کی کارکردگی بہتر بنانے’ مارکیٹ ضروریات پوری کرنے کے لیے اصلاحات لائی جائیں گی، نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد اس پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد یقینی بھی بنایا جائے گا۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث کئی ممالک اپنے اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اگر پاکستان بھی مناسب مقدار میں پٹرولیم ذخائر محفوظ رکھتا ہے تو نہ صرف ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے بلکہ معاشی دبائو کو بھی کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذخیرہ کرنے کی جدید سہولیات اور شفاف انتظام بھی ناگزیر ہیں۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں 20دن کیلئے سٹاک رکھتی ہیں مگر اسے سٹریٹجک ذخائر نہیں کہا جا سکتا، ضرورت اس امر کی ہے کہ کم ازکم دو ماہ کی کھپت کے مساوی تیل کے سٹریٹجک ذخائر رکھے جائیں۔اس شعبے میں تیل پیدا کرنے والے ممالک اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا اشتراک اور سرمایہ کاری کے کافی امکانات ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی توانائی سے مالامال ریاستوں کے ساتھ ملک عزیز کے مضبوط تعلقات پاکستان کیلئے توانائی کے شعبے میں ان ممالک سے سرمایہ کاری اور تعاون میں بڑی آسانی پیدا کر سکتے ہیں۔ اسٹریٹجک ذخائر بڑھانے کے حکومتی فیصلے پر تیزی سے عملدرآمد کیا جائے اور توانائی کے شعبے میں طویل المدتی منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے۔ مؤثر ذخیرہ اندوزی’ بہتر انتظام اور متبادل توانائی کے ذرائع پر توجہ دے کر پاکستان اپنی توانائی سلامتی کو مضبوط بنا سکتا ہے اور مستقبل کے ممکنہ بحرانوں کا زیادہ اعتماد کے ساتھ مقابلہ کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں