آزاد کشمیر الیکشن۔ جمہوری روایات کو مقدم رکھنا ہو گا (اداریہ)

آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کے بعد حکومتی اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور محاذ آرائی کی خبریں سیاسی حلقوں میں تشویش کا باعث بنی ہیں، جمہوری نظام میں انتخابی نتائج کو برداشت کرنا اور آئینی طریقے سے اختلافات کا حل تلاش کرنا سیاسی بلوغت کی علامت ہے۔ عوام نے جن نمائندوں پر اعتماد کیا ہے۔ ان کی اولین ذمہ داری سیاسی استحکام اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینا ہو گی۔ آزاد کشمیر میں پہلے مرحلے کے انتخابات کے نتائج کے بعد سیاسی محاذ پر لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پیپلزپارٹی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی دھاندلی کا رونا رو رہی ہے۔ ہم آزاد کشمیر کو بھی پنجاب جیسی سہولتیں دینگے۔ آزاد کشمیر میں انتخابات کا مرحلہ اس وقت شروع ہوا جب بھارتی شہہ پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے عوامی مسائل کے حل کے نام پر جلائو گھیرائو کے ایجنڈے کے ساتھ تحریک شروع کر رکھی تھی اور اس نام نہاد عوامی تحریک کے ذریعے پاکستان کی سلامتی اور کشمیر کے امن وامان کو ذک پہنچانے کے بھارتی ایجنڈہ کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ کشمیر ایکشن کمیٹی کے گرفتار ہونے والے کئی کارکنوں نے اس امر کا اعتراف بھی کیا کہ انہیں تحریک کے لیے بھارتی فنڈنگ اور سپورٹ ملی۔ اسی تناظر میں بھارت نے اپنی پراکسز کے ذریعے گلگت’ بلتستان کے انتخابات کو بھی سبوتاژ کرنے کی کوشش کی مگر اسے وہاں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بات ملکی سیاست کی بجائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اتحادی حکومتیں باہمی اتحاد مشاورت اور برداشت کے اصولوں پر قائم ہوتی ہیں۔ اگر انتخابی نتائج کے بعد الزام تراشی’ بیان بازی اور محاذ آرائی کو فروغ دیا جائے تو اس سے نہ صرف حکومتی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئینی اور جمہوری روایات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ الیکشن کمیشن کو کسی جماعت کی جانب سے باقاعدہ شکایات موصول ہوں تو انہیں مکمل شفافیت’ غیر جانبداری اور قانون کے مطابق سنا جائے اور جہاں کہیں بھی بے ضابطگی ثابت ہو، وہاں بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو اپنے کارکنوں اور عوام کے سامنے ایسا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے جو جمہوری روایات کے فروغ کا باعث بنے، نہ کہ نفرت اور انتشار کو ہوا دے۔ آزاد کشمیر ایک حساس خطہ ہے جہاں سیاسی استحکام کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی خدمت’ ترقیاتی منصوبوں اور خطے کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دیں اختلافات کو مذاکرات اور افہام وتفہیم کے ذریعے حل کرنا ہی جمہوری رویہ ہے۔ آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی تمام فریقوں کے لیے سنجیدگی سے غور کرنے کا موقع ہے۔ سیاسی قیادت کو تحمل’ برداشت اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ایسی فضا قائم کرنی چاہیے جو جمہوری استحکام’ عوامی اعتماد اور خطے کی ترقی کے لیے معاون ثابت ہو۔ یہی رویہ مضبوط جمہوریت اور کامیاب حکمرانی کی بنیاد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں