نئے صوبے ،آئین میں طریقہ کار موجود ہے

لاہور( بیورو چیف) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کا نئے صوبوں کے حوالے سے موقف بہت واضح ہے کہ نئے صوبے بنانے کا طریق کار آئین میں موجود ہے اور وہ اسی طریق کار کے تحت ہی بنائے جا سکتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ جس صوبے کو تقسیم کرنے کی ضرورت ہو گی وہی صوبہ اس پر بحث کرے گا، آئین میں ترمیم کی جائے گی اور نیا صوبہ صرف اسی صورت میں ہی بن سکتا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میںقمر زمان کائرہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نئے صوبوں کی مخالفت نہیں کرتی، جہاں نئے صوبوں کی ضرورت محسوس کی جائے گی، وہاں طریق کار پر عمل کرتے ہوئے بنا لیے جائیں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔محسن نقوی کے مشورے پر تبصرہ کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے رائے دی کہ وفاق میں بیٹھا شخص نئے صوبوں کی ضرورت پر بحث تو کر سکتا ہے لیکن یہ فیصلہ بہرحال صوبوں کو ہی کرنا ہے۔صوبے کی حدود کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوتی ہے اور آئینی ترمیم کے لیے اراکین اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کا ہونا ضروری ہے تو اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ صرف صوبائی اسمبلی ہی نہیں بلکہ قومی اسمبلی اراکین کی بھی دو تہائی اکثریت ووٹ دے تو ہی کسی صوبے کو مزید تقسیم کر کے نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنائے جا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں