اسلام آباد (عظیم صدیقی) اگلے دو سے تین ہفتوں کے دوران کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے کیا نیا نظام ہو گا یا پھر موجودہ قیادت کی جگہ پارلیمان کے اندر سے ہی تبدیلی ہو گی۔ دو وزراء کے استعفوں کے حوالے سے افواہیں زور پکڑ گئی ہیں۔ پارلیمانی صورت حال تیزی سے تبدیلی کی طرف ”دوڑ” رہی ہے۔ آزاد کشمیر الیکشن کی وجہ سے حکمران اتحاد کے دو بڑے گالی گلوچ کے بعد سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ ویک اینڈ کے باوجود کراچی’ لاہور’ اسلام آباد میں اعلیٰ مشاورتی اجلاس ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم پر ساتھیوں کی طرف سے دو وزراء سے جواب طلبی لینے کیلئے دبائو بڑھ رہا ہے۔ صدارتی نظام کی بازگشت سنی جا رہی ہے۔ (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان آف دی ریکارڈ رابطے ہوئے ہیں۔ کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے کیونکہ وزیرداخلہ محسن نقوی کے بیان کو ذاتی قرار دینے کے باوجود عسکری ترجمان کی طرف سے تائید نے افواہوں کے گیٹ کھول دیئے ہیں، دو تین ہفتے اہم ہیں۔




