گڈگورننس کسی بھی ریاست کی ترقی’ استحکام اور قومی سلامتی کی بنیاد تصور کی جاتی ہے۔ جب حکومتی ادارے شفافیت قانون کی بالادستی’ انصاف’ احتساب اور عوامی خدمت کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں تو ریاست کے اندر اعتماد’ اتحاد اور استحکام پیدا ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں قومی سلامتی کا تصور صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ معاشی استحکام’ سیاسی ہم آہنگی’ سماجی انصاف اور مؤثر طرز حکمرانی بھی اس کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ ترجمان پاک فوج ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کیلئے گڈگورننس ناگزیر ہے، اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشتگردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ دہشتگردوں کو ہتھیار ڈالنے ہونگے، ان سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ریاست کے ساتھ وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔ ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جان ہے، نام ہے، ہماری پہلی اور آخری شناخت پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم ہارڈسٹیٹ نہیں ہیں، ہارڈ سٹیٹ وہ ہوتی ہے، جس میں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہوں، ہارڈ سٹیٹ کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ملٹری ریاست کو چلا رہی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ملک کی آبادی چار گنا بڑھ چکی ہے جبکہ انتظامی ڈھانچہ وہی ہے، 1972ء میں پاکستان کی آبادی سات سے آٹھ کروڑ تھی جبکہ آج یہ تقریباً 25کرور ہو چکی ہے، اس لیے عوامی ضروریات بھی تبدیل ہو چکی ہیں، ملک عزیز میں انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تخلیق کا تقاضا ایسی حقیقت ہے جس کی جانب مسلسل توجہ دلائی جا رہی ہے۔ فی الحقیقت گڈگورننس اور نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل لازم وملزوم حقیقتیں ہیں۔ چنانچہ ضروری ہو چکا ہے کہ پرانے اور فرسودہ انتظامی ڈھانچے پر اصرار جاری رکھنے اور پبلک سروس کی صورتحال کو مزید بحرانوں سے دوچار کرنے کے بجائے نئے تقاضوں کو تسلیم کرنے میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ گڈگورننس کے ذریعے عوام کو بنیادی سہولیات’ روزگار’ معیاری تعلیم’ صحت اور فوری انصاف کی فراہمی ممکن بنتی ہے، جس سے بے چینی اور احساس محرومی میں کمی آتی ہے۔ جب ریاست اپنے شہریوں کے مسائل بروقت حل کرتی ہے تو انتہاپسندی’ بدعنوانی اور جرائم کے رجحانات بھی کم ہوتے ہیں۔ یہی عوامل داخلی امن کو مضبوط کرتے اور قومی سلامتی کے ستونوں کو مستحکم بناتے ہیں۔ پاکستان کو درپیش داخلی اور خارجی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ ریاستی ادارے باہمی تعاون میرٹ’ شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کو فروغ دیں۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال’ موثر پالیسی سازی’ مضبوط معیشت اور عوامی اعتماد ایسی قوتیں ہیں جو قومی سلامتی کو دیرپا بنیادوں پر مستحکم کرتی ہیں۔ ایک مضبوط’ منصفانہ اور فعال نظام حکمرانی ہی قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے پیچھے بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ کو واضح کیا اور بتایا کہ معرکہ حق میں ناکامی کے بعد دشمن نے بلوچستان پر توجہ مرکوز کی اور بتایا کہ معرکہ حق میں ناکامی کے بعد دشمن نے بلوچستان پر توجہ مرکوز کر لی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔ اس وقت ملک میں جاری منفی پروپیگنڈا’ جھوٹی خبروں اور ڈیجیٹل دہشتگردی کیلئے اجتماعی بیداری کی ضرورت ہے اور دشمن کی ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ملک کو درپیش مسائل کا حل الزام تراشی یا رسہ کشی میں نہیں جامع قومی اتفاق رائے آئین کی بالادستی’ بہتر حکمرانی اور اداوں کی مضبوطی میں ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ قومی سلامتی کے لیے گڈگورننس ناگزیر ہے۔ جہاں حکمرانی بہتر ہو گی وہاں امن’ خوشحالی اور استحکام بھی مضبوط ہو گا۔ حکومت ریاستی اداروں اور عوام کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون کی پاسداری’ قومی یکجہتی اور شفاف طرز حکمرانی کو فروغ دینا چاہیے تاکہ پاکستان ایک مضبوط’ محفوظ اور ترقی یافتہ ریاست کے طور پر دنیا میں اپنا پیغام مزید مستحکم کر سکے۔




