ملک میں غذائی اشیاء کی قیمتوں کا 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ جانا عام شہری خصوصاً متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ براہ راست گھریلو بجٹ پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی’ پیداواری لاگت’ درآمدی خام مال کی قیمتوں میں اضافہ اور مارکیٹ میں طلب ورسد کے عدم توازن نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ 2سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جس کے باعث عوام پر دبائو برقرار رہے۔ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح بنگلہ دیش کے برابر جبکہ بھارت’ بھوٹان’ مالدیپ’ نیپال اور سری لنکا سے زیادہ رہی’ شہری علاقوں میں غذائی مہنگائی 6.9 فیصد اور دیہی علاقوں میں 2.10 فیصد ریکارڈ کی گئی’ جو اپریل 2024ء کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ دوسری جانب غیر غذائی مہنگائی میں کمی دیکھی گئی۔ ٹرانسپورٹ کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں سالانہ بنیاد پر مہنگائی 15 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 5.16 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس اضافے کی بڑی وجہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ قرار دیاگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کی معیشت مہنگائی میں کمی کے تصور سے ناآشنا ہو چکی ہے۔ معیشت کے وہ بنیادی ستون جو قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں، ہمارے ہاں اندرونی اور بیرونی دبائو کے باعث شدید کھچائو کا شکار ہیں، مہنگائی کے اس طوفان کا بڑا محرک پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو زراعت اور صنعتوں کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں اور اس کا براہ راست اثر ہر اس شے پر پڑتا ہے جو بندرگاہوں’ فیکٹریوں’ کھیتوں اور منڈیوں سے بازار تک کا سفر کرتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے اور ناجائز منافع خوری’ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پید اکرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ تیل درآمد کرنے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان کی معیشت براہ راست خلیج کے حالات اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے جڑی ہوئی ہے۔ جب تک تیل کی قیمتوں میں استحکام نہیں آتا، افراط زر میں پائیدار کسی بھی صورت ممکن نہیں اور تیل کی قیمتوں پر حکومتی محصولات کی موجودہ شرح کے ہوتے ہوئے اس کی امید کرنا خاصا مشکل ہے کہ صارفین کیلئے حقیقی معنوں میں تیل سستا ہو گا۔ گزشتہ ماہ اشیائے خوردنی میں ٹماٹر کی قیمت 116.75 فیصد’ سبزیوں کی قیمت 22 فیصد’ پیاز20 فیصد’ مرغی19فیصد’ گندم 7.4 فیصد اور آٹا 6.75 فیصد مہنگا ہوا جبکہ سالانہ بنیادوں پر ٹماٹر 174.74 فیصد’ گندم 77.71 فیصد’ پیاز 75.86فیصد’ گندم کا آٹا 67.56فیصد اور گوشت 14.53فیصد مہنگا ہوا۔ ملکی آبادی 25کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے مگر حکومتی سطح پر ایسے ذخائر کی تعمیر کا کسی کو خیال نہ آنا حیران کن ہے۔ حال ہی میں حکومت کی جانب سے پیٹرولیم پالیسی میں ترمیم اور سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کی تعمیر کا فیصلہ دیرآید درست آید کے مصداق خوش آئند ہے۔ مہنگائی پر قابو پانا اور عوام کو بنیادی ضروریات زندگی مناسب قیمتوں پر فراہم کرنا ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت’ متعلقہ ادارے اور کاروباری افراد باہمی تعاون سے ایسی حکمت عملی اختیار کریں جو قیمتوں میں استحکام’ صارفین کے تحفظ اور معاشی بہتری کو یقینی بنا سکے۔




