معذور نوجوان بلال کو مبینہ پولیس مقابلہ میں مارنے کی تحقیقات کروائی جائیں،لواحقین

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) جسمانی و ذہنی معذور نوجوان بلال کے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کے خلاف اہل خانہ نے فیصل آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واقعہ کو جعلی پولیس مقابلہ قرار دیتے ہوئے اعلی سطح کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔مقتول بلال کی پھوپھی نے الزام عائد کیا کہ 10جولائی 2026 کو ان کا بھتیجا بلال ولد محمد امین حسب معمول دربار قائم علی شاہ پر حاضری کے لیے گھر سے نکلا تھا، تاہم دوپہر کے وقت اطلاع ملی کہ غلام محمد آباد پولیس نے اسے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں پولیس نے پانچ سالہ بچی فجر کے اغوا اور پولیس پر فائرنگ کا مقدمہ درج کر لیا، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔انہوں نے کہا کہ بلال جسمانی اور ذہنی طور پر معذور تھا، اس کے دونوں ہاتھ متاثر تھے اور انگلیاں مڑی ہوئی تھیں، اس لیے وہ اسلحہ پکڑنے یا فائرنگ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس حوالے سے معذوری کا سرکاری سرٹیفکیٹ بھی موجود ہے۔انہوں نے مزید دعوی کیا کہ واقعہ کے قریب موجود دکانداروں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق بلال بچی کو غوث اعظم چکن شاپ پر لے آیا تھا اور وہاں موجود افراد سے اس کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ ان کے بقول لوگوں نے اسے مشتبہ سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور دکان کے اندر بند کر کے پولیس کو اطلاع دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر بلال سے پوچھ گچھ کی، مگر بعد میں اسے تھانے منتقل کرنے کے بجائے جعلی پولیس مقابلہ ظاہر کر کے قتل کر دیا۔اہل خانہ نے حکومت پنجاب، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، آر پی او اور سی پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا فرانزک معائنہ کرایا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں