جڑانوالہ (صابر گھمن سے)قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی نظروں سے اوجھل بھیک مانگنے کا جھانسہ دیکر خوبرو دوشزائیں جسم فروشی کے مکروہ دھندے کو فروغ دینے لگی،اندرون شہر کی تمام شاپنگ مارکیٹس،بازاروں میں قائم پوائنٹس کے باہر ڈیرے جمائے خوبرو دوشزائیں نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا سبب بن رہی ہیں عوامی سماجی حلقوں کا ارباب اختیار سے اس گھمبیر صورتحال کا فی الفور نوٹس لینے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے بھیک مانگنے کے قوانین پر عمل درآمد ایک سہانا خواب بن چکا ہے جڑانوالہ کے اندرون بازاروں شاپنگ مارکیٹس میں بھیک مانگنے کا دھندہ جاری ہے بھیک مانگنے کا جھانسہ دیکر خوبرو دوشزائیں نوجوان نسل کو گمراہ کر رہی ہیں بلکہ بھیک کی آڑ میں مبینہ طور پر جسم فروشی کا مکروہ دھندہ بھی کرتی دکھائی دیتی ہیں بھیک مانگنے والی خوبرو دوشزائیں شہر کے داخلی خارجی راستوں بسوں ویگنوں کے اڈوں ہسپتالوں میں کھڑے ہو کر شہریوں کو پینسل، پن و دیگر سٹیشنری سامان خریدنے پر مجبور کرتی دکھائی دیتی ہیں اور مبینہ طور پر جیب تراشی پرس چوری کی وارداتوں میں ملوث پائی جاتی ہیں اکثر خواتین نے گود میں معصوم بچے اٹھا رکھے ہوتے ہیں جن کو مبینہ طور پر مخصوص شربت پلا کر نیم بے ہوش کر دیا جاتا ہے خواتین کی جانب سے بھیک مانگنے کی آڑ میں معصوم بچوں کیساتھ ایسا اقدام انتہائی افسوناک و لمحہ فکریہ ہے۔ عوامی’ سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سمیت دیگر ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ بھیک مانگنے پر پابندی کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے اور بھیک مانگنے کا جھانسہ دیکر دعوت گناہ دینے میں ملوث خواتین اور خوبرو لڑکیوں کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے تاکہ عملی طور پر نہ صرف نوجوان نسل بلکہ معاشرہ اس لعنت سے محفوظ ہو سکیں۔




