قال سے حال تک کا سفر

صوفی نے محض گپ شپ سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے غیر مسلموں کا دل جیتا۔ آج وہ کردار ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا ہے۔ گفتار کے غازیوں کی تو ہے منڈی لگی ہوئی۔ ہم سب کو مذکورہ کردار کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اپنے رویوں میں سنجیدگی اور متانت پیدا کرنا ہوگی اور سنجیدگی تب ہی آسکتی ہے اگر ہم “علم را بردل زنی یارے بود” کے حقیقی معانی ومطالب اور مفہوم سے واقف ہو جائیں گے۔ اصلیت کو پانے کے لئے شریعت، طریقت، معرفت اور حقیقت کا پینڈا طے کرنا پڑے گا۔ اس پینڈے کے طے کرنے میں تحمل، برداشت، صبر اور اعتدال کی ضرورت ہے۔ یہ ساری خوبیاں صوفیا میں دیکھی جا سکتی ہیں جو لوگوں میں رہتے تھے،لوگوں کے ہو کر رہتے تھے، لوگوں کی بہتری کے لئے برسر پیکار رہتے تھے اور لوگوں کے سامنے اللہ کے بندے (عبدہ) کا ماڈل پیش کرتے تھے جس سے بندے کمندے میں فرق واضح نظر آتا تھا بلکہ یوں کہیے بندہ اور اس کا بندہ نکھر کر سامنے آجاتے تھے اور سامنے سے ہر شخص کو پوری طرح دیکھا جاسکتا ہے اور یوں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جا سکتا ہے لیکن افسوس اب تو دودھ میں بھی پانی کی اتنی ملاوٹ ہوگئی ہے کہ دودھ کا اثر ۔چپ چنگی اور پانی نے دودھ کو تو فارغ کرہی دیا ہے پانی خود بھی بے چارہ اپنی اصلیت کھوچکا ہے اور اصل پانی کے حصول کے لئے بھی بین الاقوامی کمپنیوں کی فیکٹریوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ویسے تو خالص دودھ کے لئے بھی مذکورہ فیکٹریاں ہی رہ گئی ہیں لیکن فیکٹریوں میں بھی اصل کو نقل میں اور نقل کو اصل میں تبدیل کردیا جاتا ہے اور بوتل کے باہر سٹیکر لگانا مجبوری بن جاتا۔ اصل بھی سٹیکر کا محتاج ہے کیا؟ فیکٹریاں اور استحصال۔ استحصال کے خلاف جنگ تو ترقی پسند تحریک والوں نے لڑی ہے اور خوب لڑی ہے تاہم سرمایہ دارانہ نظام کی بقا فطری تھی کیونکہ بقول کسی شاعر کے ”سب مایہ ہے” نقل اور اصل والی تحریر تو جملہ دستاویزات پر قلمبند ہوتی ہے۔ قلم کی اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بڑی تعریف فرمائی اور فرمایا ہم نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا۔ بقا قلم کی سیاہی کی محتاج ہے شاید اسی لئے قلمبند کی ترکیب معرض وجود میں آئی ہے۔ صوفیا کے ہاں تو شعروسخن اور لاجواب نثر۔اور ان کے ہاں علم وادب میں فصاحت وبلاغت کمال کی تھی ۔ ان کے ہاں تو ذوق شوق کی ایک اپنی دنیا تھی اور اس دنیا کے اصول وضوابط بھی نویکلے ہیں یہاں دودھ اور پانی اگر اکٹھا ہوجائے تو ذکر اذکار اور وظائف کے سیک دے کر پانی کو خشک بلکہ اس وقت تک ریاضت کی آگ جلتی رہتی ہے جب تک کہ پانی کی مقدار زیرو نہیں ہوجاتی اور باقی تو پھر دودھ ہی دودھ۔ ایسے دودھ سے دھی اور پھر دھی سے مکھن بنایا جاتا ہے۔ مکھن مردہ عروق بدن کو زندہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ کیسے ہوتا ہے یہ بھی ایک مکمل تھیوری ہے جو محض گپ شپ لگانے والے کے وہم وخیال میں بھی نہیں آسکتی ہے یہ قیل وقال سے بہت آگے کی کہانی ہے اور اگر اس کہانی کے سارے کرداروں میں ہم آہنگی پیدا کردی جائے تو پھر “لوں لوں دے مڈھ لکھ لکھ زباناں” پیدا ہوجاتی ہیں اور ان زبانوں کا مجموعی تاثر حضرت سلطان باہو اور پیر سید مہر علیشاہ بلکہ سارے صوفیا کی شاعری میں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ دیکھنے کے لئے آنکھ چاہیئے اور ایسی آنکھ کے لئے فیض چاہیئے اور فیض کے حصول کے لئے کامل چاہیئے اور کامل کی تلاش میں باہر نکلنا پڑتا ہے جبکہ ہم تو ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے والے درویش ہیں۔ علامہ اقبال باتوں باتوں میں انسان کو جھنجھوڑ کے رکھ دیتا تھا بلکہ اندر سے توڑ کررکھ دیتا تھا انہوں نے ایک جگہ کچھ یوں فرمایا (میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح۔۔۔۔۔تو فقط اللہ ہو اللہ ہو) ویسے تو مجموعی طور پر مذکورہ شعر کا مزاج بھی ہمارے گفتار کے غازیوں کو کھٹکتا ہے۔ جب سوچ کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے تو پھر دروازے پر کسی نہ کسی سے تو ملاقات ہوجاتی ہے اور بعض اوقات یہ محض ملاقات نہیں ہوتی بن بادلوں کے برسات ہوجاتی ہے اور برسات کے موسم میں واقفان حال کو تو سو فیصد گنگنانا پڑتا ہے بلکہ صاحبان قال کو بھی ایک دفعہ سوچنا ضرور پڑتا ہے یہ علیحدہ بات ہے بقول خواجہ غلام فرید (ہکناں نوں رنگ چڑھ گیا ہک راہے گئے امن امان) ایسی حالت میں ہی تو جب مولانا جلال الدین رومی کی ملاقات دروازے پر کھڑے شاہ شمس تبریز سے ہوتی ہے تو قال حال میں کچھ ایسے تبدیل ہوجاتا ہے کہ آپ سے تم اور تم سے تو ہوجاتا ہے بلکہ آخر پر تو پھر تو ہی تو اور اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو کی صدائیں اور خودنمائی والے خودی کی لذت سے آشنا ہوجاتے ہیں اور لذت آشنائی پھر کوئی اقبال سے پوچھے (دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو۔۔۔عجب چیز ہے لذت آشنائی)آشنائے حق ہی بات کرنے کے لئے حق بجانب ہیں اور یہاں بقول غالب مرحوم (جان دی ہوئی اسی کی تھی۔۔۔۔حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا) ہمارے ہاں تو کسی کو بھی اس کا حق نہیں ملتا اور ایک بیانیہ زبردست بیانیہ۔ حق دیا نہیں جاتا حق تو چھین کر لیا جاتا ہے اور اگر انسان عبد الحق بن جائے یعنی حق کا بندہ۔ بندے بندے میں فرق ہوتا ہے اور اس فرق کو مٹانے کے لئے ہی تو حق کے قریب ہونا پڑتا ہے اور جیسے جیسے فاصلے کم ہوتے ہیں وصال کا مقام آتا ہے۔ صوفیا اس مرحلے کو واصل بالحق کہتے ہیں اور پھر اوپر والا نیچے والے میں ایک خاص رنگ پیدا کردیتا ہے، اس کو ایک خاص قوت عطا کردی جاتی ہے اور اس کی زبان میں کوئی اور بولتا ہے۔ کہنے والے پھر وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی بحث چھیڑ دیتے ہیں۔ حق والے دل کے تاروں کو چھیڑتے ہیں اور پھر عرش اور فرش پر ذکر اذکار شروع ہوجاتے ہیں اور اذکرونی الذکرکم کی عملی تفسیریں پیش کی جاتی ہیں۔ یہاں گفتار کے غازیوں اور کردار کے غازیوں میں فرق کھل کھلا کر سامنے آجاتا ہے لیکن موخرالذکر یہاں بقول پیر سید مہر علی شاہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ (چپ کر مہر علی ایتھے جا نئیں بولن دی) اور آخر پر علامہ محمد اقبال پھر ایک مشورہ دیتے ہیں (خموش اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا۔۔۔۔ ادب پہلا قرینہ محبت کے قرینوں میں) محبت کے دیپ جلاتے رہنا چاہیے اور حق کی بات ہی اصل بات ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں