بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین کی بیرونی تجارت نے رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران مضبوط ترقی ریکارڈ کی، درآمدات اور برآمدات کی مجموعی مالیت 30.13ٹریلین یوآن تک پہنچ گئی جوگزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 17.3 فیصد زیادہ ہے۔چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جولائی کے دوران چین کی برآمدات 17.44 ٹریلین یوآن رہیں اور ان میں 14 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ درآمدات 12.69 ٹریلین یوآن تک پہنچیں اور ان میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق چین کی درآمدات میں اضافہ برآمدات کے مقابلے میں زیادہ تیز رہا، درآمدات کی شرح نمو برآمدات سے 8 فیصد زیادہ رہی۔رواں سال کے پہلے سات ماہ میں چین کی مکینیکل اور الیکٹریکل مصنوعات کی برآمدات 11.12 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 21.2 فیصد زیادہ ہیں اور مجموعی برآمدات کا 63.8 فیصد بنتی ہیں۔گرین اور کم کاربن مصنوعات کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ الیکٹرک گاڑیوں کی برآمدات 71.2 فیصد، لیتھیم آئن بیٹریوں کی 35.8 فیصد اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے یونٹس کی برآمدات 34.8 فیصد بڑھیں۔چین سے تھری ڈی پرنٹرز کی برآمدات میں 110 فیصد، صنعتی روبوٹس میں 13.2 فیصد جبکہ بحری جہازوں کی برآمدات میں 32.7 فیصد اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق جولائی میں چین کی ہائی ٹیک مصنوعات کی برآمدات میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جس نے مجموعی برآمدات میں اضافے میں تقریبا 60 فیصد حصہ ڈالا۔دوسری جانب چین کی درآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ دھاتی خام مال کی درآمدات 8.2 فیصد بڑھیں جبکہ مکینیکل اور الیکٹریکل مصنوعات کی درآمدات 29.7 فیصد اضافے کے ساتھ 5.31 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئیں۔چین نے درآمدات اور برآمدات میں توازن کے لیے درآمدات بڑھانے اور تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کے اقدامات بھی کیے ہیں۔ اب تک 63 ممالک کے لیے زیرو ٹیرف پالیسی نافذ کی جاچکی ہے۔رواں سال کے پہلے سات ماہ میں چین کی آسیان ممالک کے ساتھ تجارت 20 فیصد، یورپی یونین کے ساتھ 9.5 فیصد، لاطینی امریکا کے ساتھ 15.4 فیصد اور افریقہ کے ساتھ 18.9 فیصد بڑھی۔اسی عرصے میں بیلٹ اینڈ روڈ شراکت دار ممالک کے ساتھ چین کی تجارت 15.36 ٹریلین یوآن رہی، جس میں 15.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دیگر ایشیا پیسیفک ممالک کے ساتھ تجارت 21 فیصد بڑھ کر 18.03 ٹریلین یوآن ہوگئی۔چین کے مطابق رواں سال کے پہلے سات ماہ میں 180 سے زائد ممالک اور خطوں کے ساتھ درآمدات و برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔




