14 اگست کا جشن، قائد کا خواب اور ہماری بے حسی

سبز و سفید پرچموں کی بہار ہے، گلی محلوں میں قومی ترانے گونج رہے ہیں، گاڑیوں پر لگے الائوڈ سپیکروں سے حب وطنی کے نغمے فضا میں بکھر رہے ہیں اور ہر طرف چودہ اگست کا جشن منایا جا رہا ہے۔ لیکن اس تلخ سچ کا سامنا کرنے کی ہم میں سے کسی میں ہمت ہے؟ ہر سال جب آزادی کا دن آتا ہے تو ہم اپنے گھروں کو تو سجا لیتے ہیں، مگر کیا کبھی ہم نے اپنے گریبان میں جھانک کر سوچا کہ ہم نے اس ملک کو کیا دیا؟ ہم کس بات کا جشن منا رہے ہیں؟ کیا ہم واقعی اس آزادی کے حقدار ہیں جس کے لیے لاکھوں نفوس نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا، عورتوں نے اپنی عصمتیں قربان کیں اور بوڑھوں و بچوں نے اپنے لہو سے تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کا باب رقم کیا؟کیا یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا؟ اقبال نے ایک ایسے اسلامی و فلاحی خطے کا تصور پیش کیا تھا جہاں عدل و انصاف کی حکمرانی ہو، جہاں فرد کی ”خودی” بیدار ہو، جہاں مسلمان غلامانہ ذہنیت سے آزاد ہو کر ایک باوقار اور بااخلاق قوم بن کر ابھریں۔ وہ ریاست جو روحانیت، اخلاقیات اور مساوات کا گہوارہ ہونی تھی، آج جہالت، فرقہ واریت، معاشی زبوں حالی اور اخلاقی تنزلی کے دامن میں جکڑی ہوئی ہے۔ اقبال نے تو اس ملک کے نوجوانوں کو شاہین کا لقب دیا تھا اور ان کی غیرت و خودداری کو جگاتے ہوئے فرمایا تھا: ”عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میںڈھونڈ لیتی ہے اپنی منزلیں آسمانوں میں” اور ایک اور مقام پر نوجوانوں کو ان کے عظیم اسلاف اور اعلی مقصدِ حیات کی یاد دہانی کراتے ہوئے فرمایا:”کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا”مگر افسوس کہ اقبال کے شاہین آج پیٹ کی بھوک مٹانے کیلئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور ان کا روشن مستقبل بے سمتی اور تاریکی کے بادلوں میں گم ہو چکا ہے۔کیا بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی تمام تر توانائیاں اور آخری سانسیں اسی پاکستان کے لیے وقف کی تھیں؟ قائد اعظم نے تو ایک ایسی آئینی، جمہوری اور بااصول ریاست کی بنیاد رکھی تھی جہاں قانون کی نظر میں سب برابر ہوتے، جہاں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی ہوتی اور جہاں اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کا راج ہوتا۔ اپنی خرابیِ صحت کو پسِ پشت ڈال کر دن رات محنت کرنے والے قائد اگر آج زندہ ہوتے تو اپنی قوم کی یہ حالت دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو روتا۔پاکستان کے اس زوال کا ذمہ دار کوئی ایک طبقہ یا ادارہ نہیں، بلکہ ہم سب بحیثیت مجموعی اس تباہی کے شراکت دار ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتوں نے اقتدار کو عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات، لوٹ مار اور خاندانی بادشاہت کا ذریعہ بنا لیا۔ سیاست دانوں نے قوم کو یکجا کرنے کے بجائے لسانی، صوبائی اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم کر دیا اور ملک کے خزانے کو بے دردی سے لوٹا۔ ہمارے عدالتی نظام کا حال یہ ہے کہ غریب کے لیے انصاف ایک خواب بن چکا ہے، مقدمات کی فائلیں نسل در نسل چلتی ہیں مگر فیصلے نہیں ہوتے، جبکہ طاقتور کے لیے قانون کی موم کی ناک بنا دی جاتی ہے۔لیکن کیا صرف حکمران اور ادارے ہی قصوروار ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بطور عام شہری ہماری اپنی ذمہ داری کیا ہے؟ ہم بحیثیتِ فرد کیا کر رہے ہیں؟ ہم سڑک پر صفائی کا خیال رکھتے ہیں نہ trafficکے قوانین کی پاسداری کرتے ہیں ۔ ہم دکاندار ہیں تو ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی سے باز نہیں آتے، ملازم ہیں تو کام سے چوری اور رشوت خوری کو اپنا حق سمجھتے ہیں، اور جب ووٹ دینے کا وقت آتا ہے تو برادری، ذات پات اور چند ہزار روپے یا راشن کے تھیلے کے عوض اپنا اور اپنی نسلوں کا سودا کر دیتے ہیں۔ ہم خود تو ذرے برابر بدلنے کو تیار نہیں، مگر توقع رکھتے ہیں کہ مدینہ کی ریاست خود بخود قائم ہو جائے۔ ہم نے حق سچ کے لیے آواز اٹھانا چھوڑ دیا ہے، بے حسی ہماری رگوں میں سرایت کر چکی ہے اور ہم محض تماشائی بن کر اس ملک کے وجود کو دیمک کی طرح چٹ ہوتے دیکھ رہے ہیں۔14اگست صرف جھنڈیاں لگانے، باجے بجانے اور ہلڑ بازی کرنے کا نام نہیں ہے۔ یہ دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی قدم اٹھائیں۔ یہ دن جفا کشی، دیانت داری اور خود احتسابی کا دن ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ قائد کا پاکستان بچ جائے اور اقبال کا خواب شرمندہ تعبیر ہو، تو ہمیں اپنے اپنے حصے کی شمع جلانی ہوگی۔ سیاست دانوں کو اپنے مفادات سے اوپر اٹھ کر ملک کا سوچنا ہوگا، اداروں کو اپنی آئینی حدود میں واپس لوٹنا ہوگا، عدلیہ کو بلا تفریق انصاف فراہم کرنا ہوگا، اور عوام کو ایک زندہ اور با شعور قوم کا ثبوت دینا ہوگا۔ ورنہ یاد رکھیے، تاریخ ان قوموں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو آزادی کی نعمت کی قدر نہیں کرتیں۔ آئیں اس چودہ اگست پر عمارتوں پر چراغاں کرنے کے بجائے اپنے کردار اور ضمیر کو روشن کرنے کا عہد کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں