اسلام آباد (سپورٹس نیوز)صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن محی الدین احمد وانی نے کہا ہے کہ پاکستان ہاکی کو وقت گزرنے کے ساتھ صرف عارضی فیصلوں اور تجربات کی نذر نہیں کیا جا سکتا ۔ قومی ہاکی کی بحالی کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان ہاکی کو وقت گزرنے کے ساتھ صرف عارضی فیصلوں اور تجربات کی نذر نہیں کیا جا سکتا، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک پائیدار اور 3 سے 5 سالہ طویل المدتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوں، ہماری ترجیح صرف ایک ٹورنامنٹ جیتنا نہیں، بلکہ گراس روٹ سے لے کر سینئر لیول تک ہاکی کے پورے نظام اور ماحول کو ازسرِنو تعمیر کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ گراس روٹ ماڈل اور روڈ میپ تیار کرکے اسکول ہاکی سے شروع ہو کر ڈسٹرکٹ، صوبائی اور قومی چیمپئن شپس سے گزرتا ہوا ایسا شفاف راستہ بنایا جا رہا ہے جہاں کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر قومی سینئر ٹیم تک پہنچ سکیں،نیدرلینڈز، بیلجیئم، جرمنی اور بھارت جیسے ممالک کی طرز پر شارٹ کٹس کے بجائے مضبوط انفراسٹرکچر اور جدید ٹریننگ ماڈل نافذ کیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ غیر ملکی ماہرین کے ساتھ مل کر پاکستانی کوچز کی جدید تربیت کی جائے گی، جبکہ قومی ٹیموں کے بیرونی دوروں اور غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان لانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے بہترین اور پرکشش مالی مراعات اور محفوظ مستقبل کا پاتھ وے یقینی بنایا جائیگا۔




