8 بازاروں کی بیوٹیفکیشن عروج پر۔۔۔۔ کاروبار زوال پر

فیصل آباد کے چوک گھنٹہ گھر کے اطراف میں واقع 8بازار کاروباری سرگرمیوں کے مراکز ہیں’ ان کے اردگرد آبادیاں قائم کی گئیں تاکہ وہاں سے لوگ یہاں آ کر خریدوفروخت کریں اور کاروبار خوب چمکے، فیصل آباد کو ملک کا اہم ترین صنعتی وتجارتی مرکز ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے، جس طرح کراچی روشنیوں’ لاہور باغوں اور سرگودھا شاہینوں کے شہر کے طور پر مشہور’ اسی طرح فیصل آباد بھی کپڑے کی صنعت کے حوالے سے مشہور ہے، یہاں کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں تیار کیا جانے والا اعلیٰ ترین کپڑا نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی ممالک بھی بہت پسند کیا جاتا ہے، فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر جسے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کا مقام حاصل ہے اور یہ ضلع کے طور پر فیصل آباد’ سمندری’ جڑانوالہ’ تاندلیانوالہ اور چک جھمرہ کی پانچ تحصیلوں پر مشتمل ہے، اس ضلع کے شمال میں حافظ آباد اور شیخوپورہ’ مشرق میں ننکانہ اور ساہیوال’ جنوب میں اوکاڑہ’ مغرب میں جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اضلاع واقع ہیں، فیصل آباد کی تحصیلوں اور درج بالا اضلاع سمیت دیگر علاقوں میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد سالہاسال سے فیصل آباد میں خریداری کیلئے آتی ہے، یہاں پر کپڑے کی صنعت کے علاوہ آٹے’ پٹ سن’ بناسپتی گھی’ خودرنی تیل’ مشروبات’ شکر’ پلائی ووڈ’ چپ بورڈ’ مصنوعی کھاد’ ہوزری’ نشاستہ’ گلوکوز’ آرٹ سلک’ ٹیکسٹائل مشینری’ زرعی آلات اور کلاک تیار کرنے کے بہت سے کارخانے ہیں، صابن سازی کی صنعت کو بھی یہاں عروج حاصل ہے، یہاں کی یارن مارکیٹ ایشیاء کی بڑی یارن مارکیٹ ہے، فیصل آباد شہر کا دامن چاروں اطراف میں کئی کئی کلومیٹرز تک پھیلا ہوا ہے اور لوگوں کی بہت بڑی تعداد خریداری کے لیے روزانہ فیصل آباد کے 8بازاروں میں پہنچتی ہے، اس شہر بے مثال میں تیار ہونے والی اشیاء اور دیگر علاقوں سے فروخت کے لیے لائی جانیوالی مصنوعات بھی یہاں خوب بکتی تھیں مگر اب صورتحال یکسر بدل کر رہ گئی ہے اور فیصل آباد کے آٹھ بازاروں کی بیوٹیفکیشن عروج پر نظر آتی ہے جبکہ یہاں پر کاروبار زوال پذیر ہے، کچہری بازار کی بیوٹیفکیشن کے کام کو ایک سال کے لگ بھگ کے عرصہ میں مکمل کیا گیا جس کے دوران یہاں کاروباری سرگرمیوں کا پہیہ جام ہو گیا، بیوٹیفکیشن کا کام مکمل ہوا تو کاروباری طبقہ کو نئی الجھن نے گھیر لیا اب اس بازار میں رات 9 بجے دکانیں بند کروا دی جاتی ہے، یہاں گاڑیوں کا داخلہ بھی بند ہے، لگتا ہے کہ کچہری بازار میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ جانے کی کسی کو کوئی فکر نہیں ہیں اور اسے ٹک ٹاکرز کے حوالے کر دیا گیا ہے، اس ضمن میں کچہری بازار کے دکانداروں شیخ سلمان عارف’ احمد امین صوفی’ عبدالشکور’ خالد جٹ’ شہباز گل’ میاں مبارک’ زاہد تجمل نے حکام بالا کے نام خط میں اپنی دردبھری داستان سناتے ہوئے بتایا کہ ہم کچہری بازار میں طویل عرصہ سے کاروبار کر رہے ہیں اور ٹیکس گزار کاروباری لوگ ہیں۔ پچھلے کوئی ایک سال سے اینٹی انکروچمنٹ مہم سے شروع ہونے والی سرگرمی’ پھر بیوٹیفکیشن مہم’ پھر ٹریفک فری’ پارکنگ فری سے ہوتی ہوئی’ اب کسٹمر فری کا روپ دھار چکی ہے۔ آپ سروے کروا لیں’ ہمارے بازار کا کاروبار کافی حد تک ڈائون ہو چکا ہے، داخلی اور خارجی راستے ٹریفک کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کیلئے بھی بند ہیں۔ بلاکس اور تار پھلانگ کر کچھ نوجوان تو آ جاتے ہیں، لیکن فیملی’ بزرگ’ بچوں اور خواتین متبادل مارکیٹ میں جا رہے ہیں۔ لوگ دکانوں کو چھوڑ رہے ہیں۔ دکاندار اپنے ملازمین کو نکال رہے ہیں، کاروباری اور معاشی سرگرمیاں سکڑ کر رہ گئی ہیں۔ کسی دور میں معاشی حوالہ سے نام رکھنے والا کچہری بازار آج تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ گاہکوں کی جگہ پر وہاں کارپوریشن کی سامان اٹھانے والی گاڑیاں اور موٹرسائیکل اٹھانے والے ٹرالوں کا راج ہے۔ استدعا ہے کہ سب سے پہلے بازار کے راستوں کو کھولا جائے، پیدل چلنے والوں کے ساتھ ساتھ’ موٹرسائیکل وکار کا داخلہ اور سامان کی ترسیل کے حوالہ سے لوڈنگ اور ان لوڈنگ کی اجازت دی جائے۔ بازار میں کمپیوٹرائزڈ پارکنگ پرچی فی گھنٹہ شروع کی جائے یا پھر کم ازکم پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دی جائے۔ پارکنگ کیلئے مخصوص مقامات پر 40روپے کار اور 20 روپے موٹرسائیکل کے وصول کیے جائیں اور پارکنگ سائٹس تیزی سے مکمل کی جائیں۔ بازار کے دیگر معاملات مثلاً صفائی ستھرائی’ لائٹس کا چلنا’ ٹریفک نظام’ سیوریج اور دیگر مینٹیننس کیلئے کارپوریشن’ ٹریفک پولیس’ پیرافورس’ واسا’ ستھرا پنجاب’ واپڈا ودیگرمحکموں کے لوگوں کو پابند کیا جائے۔ کچہری بازار کے دکانداروں کے حکام بالا کے نام درج بالا خط سے ان کو درپیش مشکلات عیاں ہوتی ہیں’ ستم بالائے ستم یہ کہ کچہری بازار کے بعد اب جھنگ بازار اور امین پور بازار کی بیوٹیفکیشن شروع کر دی گئی ہے’ یہاں بھی کاروباری سرگرمیاں کس قدر متاثر ہوئیں، اس کا مشاہدہ ان علاقوں میں جا کر بخوبی کیا جا سکتا ہے، یہاں پر اربوں روپے کی پراپرٹی کی قیمتیں اس قدر گر گئیں کہ لوگ اب اسے کوڑیوں کے دام قرار دینے لگے ہیں، چوک گھنٹہ گھر کے اطراف میں گاڑیوں کا داخلہ بند ہے اور ان بازاروں کے اطراف میں پارکنگ پلازے بھی نہیں بنائے گئے ہیں اور غور طلب بات یہ ہے کہ جو لوگ زیورات’ جہیز کا سامان یا دیگر قیمتی اشیاء خریدنے جاتے ہیں کیا ان کا پیدل جانا مناسب ہے اور کیا وہ پیدل چلتے ہوئے خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ بازاروں میں بیوٹیفکیشن کے کام سے راستے بند ہو جاتے ہیں اور گاہکوں کو گزرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بازاروں میں گاڑیوں کے داخلوں پر پابندی اور پارکنگ پلازوں کی کمی کے باعث بھی لوگ اب 8 بازاروں میں آنے سے کترانے لگے ہیں، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کا خریداری کے لیے آنا جانا آسان ہو، جب 8بازاروں میں خریداروں کا ہجوم آتا تھا، اس وقت دکاندار خوش تھے کیونکہ ان کا کاروبار خوب چلتا تھا لیکن اب بازاروں کی تزئین وآرائش کا جو کام شروع کیا گیا وہ بازاروں کو خوبصورت تو بنا رہا ہے مگر اس خوبصورتی کی بھاری قیمت وہاں کاروباری طبقہ نے چکائی ہے، جن بازاروں میں کبھی خریداروں کا سمندر امڈتا تھا وہاں اب دکاندار سارا دن گاہکوں کی راہ تکتے گزار دیتے ہیں، 8بازاروں کی خوبصورتی پر ہی توجہ مرکوز رکھنا جبکہ دکانداروں کے روزگار اور خریداروں کی سہولت کا خیال نہ رکھنا لمحہ فکریہ ہے۔ ایسی بیوٹیفکیشن کا کیا فائدہ جو کاروباری سرگرمیوں کے مراکز 8بازاروں جہاں کبھی میلے کا سماں ہوتا تھا، انہیں ویران کر کے رکھ دے، اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) وفاق اور پنجاب میں برسراقتدار ہے، اس جماعت کے رہنمائوں کو سوچنا چاہیے کہ لوگوں کا کاروبار تباہ کر کے ان کی ہمدردیاں حاصل نہیں کی جا سکتیں، انہیں بار بار سوچنا چاہیے کہ 8بازاروں میں بیوٹیفکیشن کے کام سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونا لوگوں میں کیا تاثرات پیدا کر رہا ہے اور کل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدواروں نے ووٹ کس سے لینے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں