فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پولیس مقابلہ میں ہلاک ہونے والے ساتھی کی مخبری کے شبہ پر اشتہاری ملزمان نے عباس پور میں خانہ بدوش فیملی پر فائرنگ کر کے ماں بیٹی سمیت 3 خواتین کو قتل کر دیا جبکہ گولیاں لگنے سے 3سالہ بچی بھی بری طرح زخمی ہو گئی’ ملزمان ہوائی فائرنگ اور دھمکیاں دیتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے، تہرے قتل کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے اور نعشیں تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر دیں۔ آئی جی پنجاب عبدالکریم نے تہرے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی رپورٹ طلب کر کے ملزمان کو فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق خلیل اوڑھ وغیرہ ایک ماہ قبل ضلع قصور سے تھانہ ائیرپورٹ کے علاقہ 250 رب عباس پور میں ریلوے لائن کیساتھ جھگیاں بنا کر بستی قائم کر کے رہائش پذیر ہوئے تھے، گزشتہ شب اڑھائی بجے کے قریب آتشیں اسلحہ سے لیس ملزمان راشد ولد نذیر عرف تیجہ اوڑھ’ ارشد ولد نذیر’ نعیم ولد نذیر’ عاشق اوڑھ وغیرہ 7کس نامعلوم ساتھیوں کے ہمراہ پیدل آئے للکارا مارا تو جھگیوں میں مقیم خانہ بدوش خواتین نے مزاحمت کی تو انہوں نے فائرنگ کر دی، گولیاں لگنے سے 55 سالہ زبیدہ زوجہ خلیل’ 30سالہ عاصمہ بی بی زوجہ عامر علی اوڑھ’ اسکی 9سالہ بیٹی مسکان اور 3سالہ بیٹی زینب دختر عامر بری طرح زخمی ہو گئیں، ملزمان ہوائی فائرنگ اور دھمکیاں دیتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچی تو 55 سالہ زبیدہ بی بی’ 30سالہ عاصمہ اور اسکی 9 سالہ بیٹی مسکان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ چکی تھی جبکہ 3سالہ زینب دختر عامر کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا، مقتولین کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ملزمان کو شبہ تھا کہ قصور میں پولیس مقابلہ میں مارا جانیوالے ان کے ساتھی کی مخبری انہوں نے کی تھی۔ اسی رنجش کی بناء پر ملزمان نے فائرنگ کر کے خون کی ہولی کھیلی ہے۔ تاہم تہرے قتل کی اطلاع ملتے ہی اعلیٰ افسران اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور نعشوں کو تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے الائیڈ ہسپتال شعبہ مارچری منتقل کر دیا۔




