لاہور( بیورو چیف) چیئرمین پبلک ایکشن فورم آصف سلیم مٹھا نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری افسران کی دوہری شہریت پر پابندی عائد کی جائے تاکہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں اور وفاداریاں ملک و قوم کی خدمت کیلئے وقف کریں،سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز کی پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی عائد کی جائے تاکہ ڈاکٹرز اپنی ذمہ داریا ں سرکاری ہسپتالوں میں پوری توجہ کے ساتھ ادا کریں اور مریضوں کو بروقت طبی سہولیات میسر آ سکیں۔اپنے بیان میں انہوںنے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں دوہری شہریت کے حامل سرکاری افسران کا ڈیٹا مرتب کریں اور انہیں ایک شہریت رکھنے کا پابند کیا جائے بصورت دیگر انہیں سرکاری نوکری سے ہٹایا جائے ، دنیا کے کسی ملک میں سرکاری افسران دوہری شہریت نہیں رکھ سکتے ۔ علاوہ ازیں چیئرمین پبلک ایکشن فورم آصف سلیم مٹھا نے نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں مریضوں کا غیر معمولی رش ہے ۔جس کے باعث ڈاکٹرز اور مریض دونوں مشکلات کا شکار ہیں، اس مسئلے کے حل کیلئے او پی ڈیز کی دو شفٹیں شروع کی جائیں۔ہسپتالوں میں ادویات، تشخیصی سہولیات، بستروں اور طبی عملے کی دستیابی یقینی بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور اس کیلئے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا نظام لایا جائے ۔آصف سلیم نے کہا کہ حکومت صحت کے بجٹ کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کیلئے شفاف نظام وضع کرے ،سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو عزت، بروقت علاج اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔




