وزیراعظم محمد شہباز شریف کا یہ اعلان کہ زرعی انقلاب کے لیے کسانوں کی بھرپور مدد کی جائے گی، ملکی معیشت کے بنیادی شعبے کے لیے خوش آئند ہے۔ پاکستان کی معیشت میں زراعت کو مزکری حیثیت حاصل ہے اور لاکھوں خاندانوں کا روزگار بھی براہ راست یا بالواسطہ اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ کسان کو اگر بروقت سہولیات’ معیاری بیج’ مناسب قیمت پر کھاد’ جدید زرعی ٹیکنالوجی اور آسان قرضے فراہم کیے جائیں تو نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ملک کو غذائی تحفظ اور معاشی خودکفالت کی منزل بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدات میں اضافے کے لیے پاکستان کی پہلی نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا اجراء بھی کر دیا ہے اب وفاق اور صوبائی حکومتیں کسانوں کو سہولیات فراہم کریں گی جس سے ہم 400 ملین ڈالر تک سالانہ بچا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرے لیے خوشی کی بات ہے کہ ملک کے مایہ ناز کسانوں’ ماہرین زراعت اور محققین کے ساتھ گفتگو کر رہا ہوں، جنہوں نے زیتون کی کاشت میں اضافے کے لیے شاندار کارنامہ انجام دیا۔ حکومت نے کسان بھائیوں کو سہارا دیا اور ہاتھ پکڑا مگر اس کام کا آغاز کسانوں نے کیا اور آج 60 ہزار ایکڑ پر زیتون کی کاشت کی جا رہی ہے۔ زرعی انقلاب کیلئے حکومت کسانوں کی بھرپور مدد کرے گی۔ یقین محکم اور دل میں تڑپ ہو تو اس طرح کے انقلاب لائے جا سکتے ہیں۔ ملک میں زرعی انقلاب لانے کیلئے عملی میدان میں کام کرنا اور کسانوں کو سہولت فراہم کرنا ہو گی، زیتون کی کاشت اور اس کے ثمرات معجزہ ہے، وفاق اور صوبائی حکومتیں زیتون کی کاشت کرنے والے کسانوں کو سہولیات فراہم کریں گی۔ ہم بیرون ملک سے 4ارب ڈالر کا زیتون کا تیل درآمد کرتے ہیں۔ اگر ہم زیتون کی خود کاشت کریں تو 400 ملین ڈالر تک بچت ہو سکتی ہے۔ یہ ملک کی بڑی خدمت ہو گی۔ ہر سال 100گریجویٹ اٹلی بھیجے جائیں گے تاکہ وہ زیتون سمیت مختلف شعبوں میں تربیت حاصل کر کے پاکستان کی خدمت کریں۔ زرعی ترقی کے لیے صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ کسان کو عملی طور پر درپیش مشکلات کا مستقل حل ضروری ہے۔ مہنگی کھاد’ معیاری بیج اور زرعی ادویات کی دستیابی’ بجلی وڈیزل کے اخراجات پانی کی قلت اور فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے جیسے مسائل نے کسان کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ زرعی پالیسیوں میں تسلسل پیدا کرے۔ چھوٹے کاشتکاروں کو خصوصی سہولتیں دے۔ جدید مشینری اور ٹیکنالوجی تک رسائی آسان بنائے اور منڈی کے نظام کو شفاف بنائے تاکہ کسان کو اس کی محنت کا جائز معاوضہ مل سکے۔ زرعی انقلاب کا خواب اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب کسان کو ملکی معیشت کا حقیقی شراکت دار سمجھا جائے۔ حکومت کی جانب سے کسانوں کی بھرپور مدد کا عزم قابل تحسین ہے، اس عزم کو عملی اقدامات’ مؤثر نگرانی اور مستقل پالیسیوں کے ذریعے خوشحال کسان ہی مضبوط زراعت اور مضبوط معیشت کی ضمانت ہے۔ اگر حکومت کسان کو سہولت’ تحفظ اور اس کی پیداوار کا مناسب معاوضہ یقینی بنا دے تو پاکستان نہ صرف زرعی پیداوار میں خود کفیل ہو سکتا ہے بلکہ زرعی اجناس کی برآمدات بڑھا کر قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ایسی بے شمار زمین جو بنجر ہونے کے باعث کاشت کے قابل نہیں رہی ان کی طرف بھی حکومت کو خاص طور پر توجہ مبذول کرنی ہو گی تاکہ بنجر زمین کو زیرکاشت لا کر استفادہ حاصل کیا جائے اور چھوٹے کسانوں کی بہتری کیلئے اقدامات اس حکومت کی جو اولین ترجیح ہے، اس کاوش کو عملی شکل بھی دی جائے تاکہ ملک کا کسان بہتر اور خوشحال ہو سکے۔




