پاکستان کو معاشی استحکام کی جانب لے جانے کیلئے حکومت کی جانب سے یہ عزم کہ ملک کو معاشی زوال کے چکر میں نہیں جانے دیا جائے گا، ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیغام ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران مہنگائی’ قرضوں’ توانائی کے مسائل’ کمزور برآمدات اور مالیاتی دبائو نے ملکی معیشت کو شدید مشکلات سے دوچار کیا، تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وقتی اقدامات کے بجائے مستقل اور پائیدار معاشی پالیسی اختیار کی جائے۔ معاشی ترقی کا اصل مقصد عوام کو ریلیف’ روزگار کے مواقع اور بہتر معیار زندگی فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مشکل فیصلوں کے نتیجے میں معاشی استحکام حاصل ہوا، پاکستان کو دوبارہ عروج زوال کے معاشی چکر میں نہیں جانے دینگے، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا، ایف بی آر کی آمدن میں گزشتہ برسوں کے دوران چالیس فیصد اضافہ ہوا، ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8.5 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہو گیا۔ مجموعی خسارہ 12.5 فیصد سے کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گیا ہے۔ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ معاشی استحکام مشکل فیصلوں کے نتیجے میں حاصل ہوا، اسے مستقل بنانا ہے، معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب بڑھنا ہے، بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عملدرآمد کا سلسلہ جاری بھی رکھنا ہو گا، ہمیں نجی شعبے کو ملک کی معاشی قیادت کا کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے تاکہ ملک ترقی کے زینے پر گامزن رہے۔ نجی شعبے کے سرمائے کو متحرک کرنا معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔ پائیدار معاشی استحکام کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، پبلک پرائیویٹ شراکت داری اور نجکاری کے ذریعے سرمایہ کاری کا فروغ ممکن ہے۔ پی پی پیز کے ذریعے ڈھانچے اور عوامی خدمات کے منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری بڑھانا ہو گی۔ نجکاری کے عمل میں شفافیت’ کارکردگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ترجیح دیں گے، سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ معاشی ترقی کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری مزید مضبوط بنانا ہو گی’ قلیل مدت میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 11 سے 12 فیصد تک لے جانا ہے۔ آئی ٹی سروسز کی برآمدات گزشتہ مالی سال 4.6 ارب ڈالر رہیں، آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز 1.6 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا، اشیاء کی برآمدات تقریباً 30 ارب ڈالر پر برقرار رہیں۔ اس شعبے میں مزید کام کرنا ہو گا۔ توانائی’ سرکاری اداروں’ ٹیکس اور نجکاری کے شعبوں میں اصلاحات بھی جاری ہیں۔ ٹیکسوں کے نطام کو بھی ملک میں نافذ کرنا ہو گا اور ٹیکس وصولیوں کے نظام کو شفاف طریقے سے ہم کنار کرنا ہو گا۔ اکثر سرمایہ کار ٹیکس کے نظام کے زمرے میں ہی نہیں آئے حکومت کو اپنی سرمایہ کاروں کے ٹیکس کی وصولی کو بھی فعال بنانا ہو گا کیونکہ ٹیکسوں کی بدولت ملکی نظام چلانے میں بہتری ہوتی ہے۔ معاشی استحکام کے لیے حکومت کو محصولات میں اضافہ’ برآمدات کا فروغ صنعتی پیداوار میں بہتری’ زرعی شعبے کی ترقی اور غیر ضروری درآمدات میں کمی جیسے اقدامات پر مستقل توجہ دینا ہو گی۔ اسی طرح سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنا اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیے بغیر معیشت میں پائیدار ترقی ممکن نہیں، اس لیے کاروبار دوست ماحول پالیسیوں میں تسلسل اور شفاف نظام ضروری ہے۔ اگر حکومت معاشی نظم وضبط کے ساتھ اصلاحات کا عمل جاری رکھتی ہے تو پاکستان نہ صرف موجودہ مشکلات پر قابو پا سکتا ہے بلکہ ترقی کی نئی راہیں بھی کھول سکتا ہے۔ پاکستان کو معاشی زوال سے بچانے کیلئے محض دعوے کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات اور مستقل مزاجی درکار ہے۔ حکومت’ پارلیمان’ کاروباری طبقے اور عوام سب کو ملکی معیشت کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ معاشی استحکام ہی سیاسی اور سماجی استحکام کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر قومی وسائل کا درست استعمال’ بدعنوانی کا خاتمہ’ ٹیکس نظام میں بہتری اور پیداوار میں اضافہ یقینی بنایا جائے تو پاکستان کو معاشی زوال کے چکر سے نکال کر خودانحصاری اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔




