پوری قوم ملک کا دفاع مضبوط بنانے کیلئے متحد ہو جائے (اداریہ)

6 ستمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ یادگار دن ہے جب قوم نے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر وطن کا دفاع کیا۔ 1965ء کی جنگ میں پاکستان کے بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ وطن کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ یوم دفاع ہمیں اپنے شہداء اور غازیوں کی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور قومی یکجہتی’ حب الوطنی اور عزم صمیم کا درس دیتا ہے۔ 6ستمبر پاکستان کی قومی تاریخ کا وہ روشن اور ناقابل فراموش دن ہے جسے ہر سال یوم دفاع کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک تاریخی واقعے کی یاد نہیں بلکہ قومی غیرت’ حب الوطنی’ اتحاد’ قربانی اور دفاع وطن کے اس جذبے کی تجدید کا دن ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وطن صرف زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں بلکہ ہمارے بزرگوں کی قربانیوں’ شہداء کے لہو’ مائوں’ بہنوں کی امیدوں’ بچوں کے مستقبل اور پوری قوم کی اجتماعی شناخت کا نام ہے۔ آج یوم دفاع کی اہمیت اہل پاکستان کے لیے اس حوالے سے بھی اجاگر ہوئی ہے کہ ہمارے شاطر ومکار دشمن بھارت کی مودی سرکار نے سات سال قبل 5اگست 2019ء کو بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35اے کو بھارتی پارلیمنٹ کے ذریعے حذف کرا کے اپنے ناجائز زیرتسلط کشمیر کو بھارتی سٹیٹ یونین کا حصہ بنایا جس کے بعد اس نے پاکستان کی سلامتی کو بھی کھلا چیلنج کرنا شروع کر دیا اور پھر گزشتہ سال مئی کے پہلے اور دوسرے ہفتے کے دوران پاکستان کی سلامتی کے خلاف شب خون مارنے سے بھی دریغ نہ کیا جس کا پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم کی جانب سے ایسا کرارا جواب دیا گیا کہ وہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ دشمن ملک بھارت نے پاکستان کی سرزمین پر ناپاک ارادوں سے قدم رکھا ہو اور پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے دشمن کو دھول نہ چٹائی ہو معرکہ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کو ایسی شکست دی کہ پوری دنیا حیران ہو گئی۔ رافیل طیاروں کو زمین بوس کرنے سے لے کر فضائی دفاعی نظام کی تباہی تک دشمن کو اپنی سرحدی چوکیوں پر صلح کے لیے سفید پرچم لہرانے پر مجبور کر دیا گیا۔ بھارت کی یہ جنگ ہنسائی پہلی بار تاریخ کا حصہ نہیں بنی، اس سے قبل بھی ڈھیٹ دشمن’ بھارت پاکستان کی مسلح افواج سے متعدد بار مار کھا چکا ہے۔ چھ ستمبر 1965ء کو پاکستان کی تاریخ میں وہ خصوصی اہمیت حاصل ہے جس کے باعث اسے یوم دفاع پاکستان کہا جاتا ہے۔ چھ ستمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی مفت میں نہیں ملتی۔ اس کی قیمت خون سے چکانی پڑتی ہے۔ آج جب ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں تو یہ ان شہداء کا احسان ہے جو 6ستمبر کو بی آر بی نہر پر’ سرگودھا کے آسمان پر اور سیالکوٹ کے میدانوں میں امر ہو گئے۔ ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ محض جہازوں’ توپوں وٹینکوں کا معرکہ نہیں تھی، یہ غیرت قومی اور دفاع کا ایسا امتحان تھا جس میں پاکستان سرخرو ہوا، اس امتحان کا سب سے روشن باب پاک فضائیہ کے شاہینوں کی وہ بے مثال جدوجہد ہے جس نے کم وسائل’ محدود تعداد اور سخت حالات کے باوجود دشمن کے منصوبوں کو خاک کا ڈھیر بنا دیا۔ جب زمینی محاذ پر خطرہ بڑھا، جب لاہور کے دروازوں تک جنگ کی دھمک گونجی’ تب آسمان پاکستان نے گواہی دی کہ اس کے نگہبان جاگ رہے ہیں۔ پاک فضائیہ’ جس کے پاس اس وقت عددی اعتبار سے محدود طیارے اور محدود اثاثے تھے، اپنی پیشہ وارانہ تیاری’ نظم وضبط اور ایمان افروز جذبے کی بدولت ایک ایسی قوت بن کر ابھری جس نے جنگ کا توازن بدل کر رکھ دیا۔ شاہینوں کے اسکواڈرن رات کی تاریکی میں بمبار مشینوں سے لے کر دن کے اجالے میں دشمن کے لڑاکا جہازوں سے براہ راست تصادم تک ہر محاذ پر سینہ سپر رہے۔ دفاعی منصوبہ بندی ہو یا جارحانہ کارروائی’ پاک فضائیہ نے ثابت کیا کہ تعداد نہیں’ تربیت جرأت اور عزم فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ شہداء کی قربانیاں محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں دفاع وطن کے لیے جانیں قربان کرنے والے جوانوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ مضبوط قومیں مشکلات اور خطرات کا مقابلہ’ اتحاد’ نظم وضبط اور قومی جذبے سے کرتی ہیں۔ آج بھی پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے یوم دفاع کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی استحکام معاشی ترقی اور قومی سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ افواج پاکستان اور قوم کا باہمی اعتماد ہی وطن کے دفاع کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ یوم دفاع پاکستان دراصل تجدید عہد کادن ہے، ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ شہداء کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور پاکستان کی سلامتی’ خودمختاری اور ترقی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرینگے۔ ایک مضبوط معیشت’ مستحکم ادارے’ باہمی اتحاد اور قانون کی پاسداری ہی شہداء کی قربانیوں کا حقیقی احترام ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پوری قوم یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو ناکام بنائے اور پاکستان کو ایک مضبوط’ خوشحال اور ناقابل تسخیر ملک بنانے کے لیے متحد ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں