حرمین شریفین کے تحفظ کا قابل تحسین عزم (اداریہ)

مکہ مکرمہ جیسے مقدس شہر کے قریب ڈرون حملے کی کوشش پوری امت مسلمہ کے لیے انتہائی تشویشناک واقعہ ہے۔ حرمین شریفین مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا مرکز ہیں، اس لیے ان کی سلامتی اور تقدس پر کسی بھی قسم کا خطرہ ناقابل قبول ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری’ علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے۔ سعودی عرب کے فضائی نظام نے یمن سے حوثی گروپ کی جانب سے مکہ مکرمہ کی طرف بھیجا گیا ڈرون ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔ گزشتہ روز سعودی سول ڈیفنس نے مکہ مکرمہ’ جدہ اور طائف سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ممکنہ فضائی خطرے کے حوالے سے ہنگامی الرٹس جاری کیے تھے۔ اس کارروائی کو مکہ مکرمہ’ مسلمانوں کے قبلہ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد پرامن عبادت گزاروں’ حجاج’ شہریوں اور مقیم افراد میں خوف وہراس پیدا کرنا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق تازہ کارروائی میں ڈرون کو مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی گھنائونی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت اور اسے ناقابل معافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پوری قوم سعودیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ مسجد الحرام’ مکہ مکرمہ کے مقدس مقام پر ہونے والے بزدلانہ اور گھنائونے ڈرون حملے کی کوشش کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان کے عوام اس اشتعال انگیز اور افسوسناک اقدام پر دکھی اور شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ اس قابل مذمت اور ناقابل معافی کارروائی کے نتیجے میں ہمارے دلوں میں جو گہرا دکھ’ کرب اور اضطراب پیدا ہوا ہے اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سعودی مسلح افواج کی غیر معمولی مستعدی’ شجاعت اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس خطرے کا مقابلہ کیا۔ خطے میں پہلے ہی جنگ اور کشیدگی کی صورتحال برقرار ہے۔ ایسے میں مقدس مقامات کے قریب کسی بھی فوجی کارروائی سے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے مطابق اس ڈرون کو مکہ کے جنوب میں سعودی فضائی دفاع نے بروقت روک لیا، حرمین شریفین کی سلامتی پوری امت مسلمہ کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں۔ وزیراعظم کا یہ موقف بھی قابل توجہ ہے کہ پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی مؤثر راستہ ہیں۔ لہٰذا تمام فریقین کو پوری دنیا کے خطے کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے صبر وتحمل سے کام لینا ہو گا تاکہ دنیا کے امن کو برباد ہونے سے بچایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں