فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہد ر ی میمون حسین نے حکومت کی پیٹرول ریلیف اسکیم کے طریق کار پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگا ئی سے پہلے ہی پریشان عوام کو ریلیف دینا ہے تو ایسی پالیسی دی جائے جو ان کی زندگی آسان کرے، نہ کہ ریلیف لینے کے لیے انہیں ایک نئی آزمائش سے گزارا جائے۔چوہدری میمون حسین نے کہا کہ ایک طرف عام آدمی پیٹرول، بجلی، راشن، کرایوں اور روزمرہ اخراجا ت کے بوجھ تلے دب رہا ہے، دوسری طرف اگر ریلیف کے حصول کے لیے اسے پٹرول پمپ پر لمبی قطار، انتظار، ٹوکن اور مختلف مراحل سے گزرنا پڑے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ریلیف ہے یا ریلیف حاصل کرنے کی ایک اور مشکل؟انہوں نے کہا کہ ایک دیہاڑی دار مزدور کے لیے ایک گھنٹہ بھی قیمتی ہے۔ وہ قطار میں کھڑا ہوگا تو اس کی دیہاڑی متاثر ہوگی، کاروباری شخص کا وقت ضائع ہوگا اور عام شہری کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکومت کو پالیسی بناتے وقت صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ ریلیف کتنے روپے کا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس ریلیف تک پہنچنے میں عوام کو کتنی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔چوہدری میمون حسین نے کہا کہ پٹرول پمپس پر فسیلیٹیشن ڈیسک اگر عوام کی سہولت کے لیے قائم کیے گئے ہیں تو وہاں ایسا انتظام ہونا چاہیے کہ شہری گھنٹوں قطاروں میں کھڑے نہ رہیں۔ ریلیف کے نام پر رش، انتظار اور وقت کا ضیاع کسی بھی صورت عوامی سہولت کا مثالی ماڈل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس اسکیم کے طریق کار پر فوری نظرثانی کی جائے، غیر ضروری مراحل کم کیے جائیں، پٹرول پمپس پر عملہ اور کائونٹرز بڑھائے جائیں، شکایات کے فوری ازالے کا نظام بنایا جائے اور مستحق شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کم سے کم وقت اور کم سے کم انتظامی رکاوٹ کے ساتھ فراہم کیا جائے۔




