مودی حکومت نے10ہزار مسلمانوں کو بے گھر کردیا

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بی جے پی حکومت نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی سمجھے جانے والے ارب پتی تاجر گوتم اڈانی کے معاشی مفادات کے لیے آسام میں 10 ہزار مسلمانوں کو بے گھر کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق آسام کے وزیراعلیٰ نے ریاست کے ضلع دھوبری میں اڈانی پاور لمیٹڈ کے تعمیر کیے جانے والے ایک تھرمل پاور منصوبیکا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ منصوبہ ایسی زمین پر قائم کیا جا رہا ہے جہاں جولائی 2025 میں 1400 مسلم خاندانوں کے گھر مسمار کر دیے گئے تھے جو وہاں دہائیوں سے آباد تھے۔ابتدا میں یہ زمین ریاستی سرکاری ادارے آسام پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ کو الاٹ کی گئی تھی، جس نے بعد میں اس منصوبے کے لیے یہ زمین اڈانی پاور لمیٹڈ کو الاٹ کر دی۔گھروں کی مسماری کے نتیجے میں تقریباً 10000مسلمان بے گھر ہوئے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اڈانی کی کمپنی کی جانب سے ماحولیاتی منظوری کیلئے جمع کرائی گئی درخواست میں متعلقہ وزارت کو بتایا گیا تھا کہ منصوبے کی جگہ پر کوئی آبادی موجود نہیں ہے، اس لیے بحالی یا دوبارہ آبادکاری سے متعلق کوئی دعویٰ موجود نہیں ہے۔دوسری جانب متاثرہ خاندانوں نے بتایا کہ انہیں زبردستی ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا اور ان کی بحالی یا دوبارہ آبادکاری کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔خیال رہے کہ آسام میں 2016 سے مودی حکومت کا بدترین دور اقتدار شروع ہونیکے بعد سے مسلمانوں کی آبادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔حال ہی میں7 ستمبر کو آسام کے ضلع گولپارہ میں 73 مسلم خاندانوں کے گھروں کو مسمار کرکے انہیں بے گھر کردیا گیا تھا، رہائشیوں کو جگہ خالی کرنے کے لیے صرف 24 گھنٹے کا وقت دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں