جڑانوالہ(نامہ نگار) لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے جڑانوالہ میں درخواست گزار دکانداروں کی دکانوں کی نیلامی کا عمل روک دیا، عدالت نے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔جسٹس وقار حیدر اعوان اور جسٹس جاوید اقبال وینس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سنگل بینچ کے فیصلے کیخلاف 40دکانداروں کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی، درخواست گزاروں نے اپنے وکیل چودھری شعیب سلیم ایڈووکیٹ کے ذریعے موقف اختیار کیا کہ ان کی دکانوں کے حوالے سے دسمبر 2023میں ضلعی اسیسمنٹ کمیٹی کی منظوری کے بعد باقاعدہ تحریری لیز معاہدے کیے گئے تھے اور وہ نظرثانی شدہ کرایہ ادا کرنے پر بھی رضامند تھے۔درخواست گزاروں کے مطابق میونسپل کارپوریشن جڑانوالہ نے بعد ازاں ان سے کرایہ وصول کرنا بھی شروع کر دیا تھا،سماعت کے دوران جسٹس جاوید اقبال وینس نے استفسار کیا کہ جب درخواست گزاروں کے حقوق سے متعلق تحریری دلائل عدالت کے سامنے موجود ہیں تو دکانوں کی نیلامی کیسے کی جا سکتی ہے،عدالت نے سرکاری وکیل سے حکومت کا موقف پیش کرنے کی ہدایت کی اور قرار دیا کہ معاملہ اس انداز میں آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔عدالت نے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کا موقف عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔درخواست گزاروں کے وکیل چودھری شعیب سلیم ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ پہلے سے لیز پر دی گئی دکانوں کی نیلامی غیر قانونی اور پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کی دفعہ 94 اور پنجاب لوکل گورنمنٹ پراپرٹی رولز 2008 کے خلاف ہے۔اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزاروں کے تحریری لیز معاہدے تاحال برقرار ہیں اور معاہدوں کی مدت کے دوران نیلامی کے ذریعے ان کا قبضہ ختم نہیں کیا جا سکتا، درخواست گزاروں نے سنگل بینچ کے فیصلے کو اپنے کیس کی حد تک کالعدم قرار دینے اور اپنی درخواست منظور کرنے کی استدعا کی ہے جبکہ انٹرا کورٹ اپیل زیر سماعت رہنے تک ان کے خلاف کسی بھی قسم کی جبری کارروائی روکنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔دریں اثنا لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے بھی جڑانوالہ کے متعدد دیگر دکانداروں کی دکانوں کی نیلامی کا عمل روک دیا، دکانداروں نے پنجاب بورڈ آف ریونیو کے ممبر کالونیز کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا،درخواست گزاروں کی جانب سے ان مقدمات میں بھی چودھری شعیب سلیم ایڈووکیٹ نے دلائل دیے،جڑانوالہ اور فیصل آباد کی دیگر تحصیلوں سے بھی متعدد رٹ درخواستیں دائر کی گئی تھیں جنہیں یکجا کر کے تمام درخواست گزاروں کو عبوری ریلیف دے دیا گیا۔




