فیصل آباد(ایجوکیشن رپورٹر) ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی فیصل آباد کے دفتر سے نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن سے متعلق جمع کروایا گیا ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ محکمہ تعلیم کی مبینہ انتظامی غفلت اور ریکارڈ مینجمنٹ کی ناکامی کا بوجھ نجی سکول مالکان پر ڈالنے کا معاملہ سامنے آنے پر تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی جانب سے غیر رجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کو مختلف اوقات میں نوٹسز جاری کرکے مطلوبہ جوابات اور دستاویزات طلب کی گئیں۔ متعدد سکول مالکان نے مقررہ وقت کے اندر اپنے جوابات اور کوائف محکمہ تعلیم کے دفتر میں جمع کروائے۔ نیو رجسٹریشن کے لیے متعلقہ افسران کی جانب سے سکولوں کی انسپکشن بھی کی گئی، جبکہ جن فائلوں پر اعتراضات عائد کیے گئے، سکول مالکان نے مقررہ تقاضوں کے مطابق اعتراضات دور کرکے فائلیں مکمل کر دیں۔تاہم اب مبینہ طور پر متعلقہ ریکارڈ دستیاب نہ ہونے کے باعث بعض نجی سکول مالکان کو یہ کہہ کر موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے کہ نوٹسز کے باوجود انہوں نے محکمہ تعلیم سے تعاون نہیں کیا۔ متعدد اداروں پر بھاری جرمانے بھی عائد کر دیے گئے ہیں۔نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے اس صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر محکمہ تعلیم کے دفتر میں جمع کروائی گئی فائلیں اور کوائف دستیاب نہیں تو اس کی ذمہ داری سکول مالکان پر عائد کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ پہلے اداروں سے دستاویزات طلب کی گئیں، پھر انسپکشنز کی گئیں، اعتراضات عائد کیے گئے اور مالکان نے اعتراضات بھی دور کیے، لیکن اب محکمانہ ریکارڈ کی عدم دستیابی کا خمیازہ بھی نجی اداروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔سکول مالکان کا کہنا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے پہلے ہی محدود وسائل میں لاکھوں بچوں کو تعلیم فراہم کرکے حکومت کے تعلیمی بوجھ میں کمی کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں سہولت دینے کے بجائے دفتری پیچیدگیوں، جرمانوں اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر محکمہ تعلیم اپنے ہی دفتر میں موجود ریکارڈ محفوظ نہیں رکھ سکتا تو اس کی ذمہ داری بھی متعلقہ حکام پر عائد ہونی چاہیے، نہ کہ نجی اداروں پر’ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے، غائب ہونے والے ریکارڈ کا سراغ لگایا جائے، ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کیا جائے، بغیر جواز عائد کیے گئے جرمانے واپس لیے جائیں اور جن اداروں نے تمام قانونی تقاضے مکمل کر لیے ہیں انہیں فوری طور پر ای لائسنس جاری کیے جائیں۔




