سال سے زائد زیر حراست ملزم کو ضمانت قانونی حق ہے، عدالت

اسلام آباد (بیورو چیف)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ ایسے فوجداری مقدمے میں جہاں ملزم ایک سال سے زائد عرصہ زیر حراست ہو اور مقدمے کی کارروائی میں تاخیر ملزم یا اس کی جانب سے کسی شخص کے فعل یا کوتاہی کے باعث نہ ہوئی ہو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(1)کے تیسرے پرووائزو کے تحت ملزم کو ضمانت دینا قانونی تقاضا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ زیر سماعت قیدی کو ہر تاریخ پر عدالت میں پیش کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہیجبکہ جیل حکام کی جانب سے ملزم کو عدالت میں پیش نہ کرنے کے باعث ہونے والی تاخیر کا ذمہ دار ملزم کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔جسٹس عقیل احمد عباسی کی جانب سے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے چیک ڈس آنر کیس میں چوہدری شاہ زیب شمیم کی ضمانت سے متعلق درخواست منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کے احکامات کالعدم قرار دے دیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں