پاکستان کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے’ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے کاروباری سرگرمیوں میں آسانی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں میں آسانی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ حکومت کی جانب سے غیر ضروری ضابطہ کاری کے خاتمے اور کاروباری برادری کو سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ معاشی ترقی کے لیے صرف مالیاتی استحکام کافی نہیں بلکہ کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان میں کاروبار شروع کرنے یا اسے وسعت دینے والے افراد کو کئی محکموں’ اجازت ناموں’ لائسنسوں’ رجسٹریشنز اور مختلف قواعد وضوابط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ایک کاروباری شخص کو ایک ہی کام کے لیے متعدد اداروں سے رابطہ کرنا پڑے۔ مختلف دستاویزات جمع کرانا پڑیں اور طویل انتظار کرنا پڑے تو اس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ کاروباری لاگت بھی بڑھتی ہے۔ یہی اضافی انتظامی بوجھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے زیادہ مشکلات پیدا کرتا ہے۔ چنانجہ ایسے قوانین اور طریقہ کار کا جائزہ لینا ضروری ہے جو اپنے مقصد سے زیادہ کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہے ہو۔ حکومت کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے اور غیر ضروری ضابطہ کاری کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔ سرمایہ کاری کے فروغ اور ریگولیٹری نظام کو مزید مؤثر’ شفاف اور کاروبار دوست بنانے کے حوالے سے وزیراعظم نے اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارتی آف پاکستان میں اصلاحات کے ذریعے اسے جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ اسی طرز پر دیگر ریگولیٹری اداروں میں بھی اصلاحات لائی جائیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریگولیٹری رجسٹری تشکیل دی جائے تاکہ ملک میں موجود تمام ریگولیٹری تقاضوں اور قواعد وضوابط کو ایک جامع نظام کے تحت مرتب کیا جا سکے۔ کاروبار میں آسانی کے لیے آسان کاروبار ایکٹ کو ملک بھر میں نافذ کیا جائے تاکہ صوبوں میں ریگولیٹری نظام میں ہم آہنگی پید اہو اور کاروباری افراد کو یکساں سہولیات میسر آئیں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریگولیٹری اصلاحات کے اثرات اور افادیت ان اصلاحات کے عملی نتائج کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ کاروبار میں آسانی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو سازگار اور سہل کاروبار ماحول فراہم کیے بغیر ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاری کے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ وزیراعظم نے ہدایت کہ سرمایہ کاری کی سہولت کونسل تمام صوبوں کا دورہ کرے اور صوبائی حکومتوں کو ریگولیٹری اصلاحات کے عمل میں اعتماد میں لے تاکہ ملک بھر میں کاروباری سہولت کاری اور ریگولیٹری نظام میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریگولیٹری اصلاحات کو ایک مسلسل عمل کے طور پر آگے بڑھایا جائے۔ قوانین کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے۔ غیر ضروری ضابطے ختم کیے جائیں، ضروری قوانین کو آسان زبان اور واضح طریقہ کار میں تبدیل کیا جائے، وفاق اور صوبوں کے نظام میں ہم آہنگی پیدا کی جائے اور کاروباری برادری سے مسلسل مشاورت کی جائے۔ اصلاحات کا مقصد صرف سرکاری فائلوں میں تبدیلی نہیں بلکہ کاروبار کے لیے حقیقی آسانی پید اکرنا ہونا چاہیے۔ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے نجی شعبے اور کاروباری برادری کے درمیان اعتماد کا رشتہ ناگزیر ہے۔ سرمایہ کار کو یقین ہو کہ قوانین واضح ہیں۔ پالیسیوں میں تسلسل ہے اور کاروبار کے لیے غیر ضروری رکاوٹیں کم کی جا رہی ہیں تو سرمایہ کاری کے امکانات بڑھتے ہیں۔ اسی طرح مقامی کاروباری افراد کو سہولت ملنے سے معاشی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ریگولیٹری اصلاحات محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ معاشی ترقی کی بنیادی ضرورت ہیں۔ اگر ان اصلاحات کو شفافیت’ تسلسل اور مؤثر عملدرآمد کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو پاکستان میں کاروبار’ سرمایہ کاری’ روزگار اور برآمدات کے لیے زیادہ سازگار ماحول تشکیل دیا جا سکتا ہے۔




